ٹرمپ کا غزہ بورڈ آف پیس میں کون شامل ہوا؟ کس نے کیا صاف انکار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کے لیے 35 ممالک نے دستخط کردیئے ہیں تاہم کچھ ممالک نے صاف انکار کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے دوران سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں متعدد ممالک نے بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کردیئے۔
تاہم ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ یہ ادارہ ممکنہ طور پر اقوامِ متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے، نے کئی مغربی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
انہی خدشات کی بنیاد پر متعدد یورپی ممالک نے تاحال غزہ بورڈ آف پیش میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے جس پر صدر ٹرمپ نے برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔
بورڈ آف پیس کیا ہے؟
امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ جنگ بندی معاہدے پر ثالثوں سمیت حماس اور اسرائیل نے اتفاق کرلیا تھا۔ اس امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ایک بورڈ کی تجویز رکھی گئی تھی۔
نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس منصوبے کی توثیق بھی کی تھی جس میں اس بورڈ کو غزہ کی غیر فوجی حیثیت اور تعمیرِ نو کی نگرانی سونپی گئی تھی۔
تاہم سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا ذکر ہی نہیں بلکہ اسے ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جس کا دائرہ کار صرف غزہ تک نہیں بلکہ تنازعات اور جنگ کے خطرے سے دوچار ممالک اور علاقوں میں امن، استحکام اور حکمرانی کو فروغ دینے کی ذمہ داری بھی نبھائے گا۔
صدر ٹرمپ اس بورڈ کے غیر معینہ مدت کے چیئرمین ہوں گے جب کہ ایک ایگزیکٹو بورڈ میں جیئرڈ کشنر، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر شامل ہوں گے۔
مستقل رکنیت کے لیے ممالک کو 1 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے، جو غزہ کی تعمیرِ نو پر خرچ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کن ممالک نے شمولیت قبول کی؟
اب تک جن ممالک نے شمولیت کی حامی بھری ہے ان میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، قطر، بحرین، پاکستان، ترکی، ہنگری، مراکش، کوسووو، ارجنٹینا، پیراگوئے، قازقستان، ازبکستان، انڈونیشیا، ویتنام، آرمینیا، آذربائیجان اور اسرائیل شامل ہیں۔
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو بھی اس بورڈ میں شامل ہو رہے ہیں جنہیں اکثر لوگ یورپ کا آخری ڈکٹیٹر کہتے ہیں۔
بورڈ میں شمولیت کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی دعوت دی گئی ہے اور ٹرمپ کے بقول وہ شامل ہونے پر آمادہ ہیں، تاہم روس نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
البتہ روسی صدر پوٹن نے مبینہ طور پر تجویز دی ہے کہ امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے 1 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی بورڈ میں مشروط شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔
کن ممالک نے انکار کیا؟
فرانس اور ناروے نے یہ اعتراض کرتے ہوئے شمولیت سے صاف انکار کردیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے ساتھ کیسے کام کرے گا۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ کسی کونسل میں بیٹھنا مشکل ہے کیونکہ روس ہمارا دشمن ہے اور بیلاروس اُس کا اتحادی ہے جو بورڈ میں شامل ہوچکا ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے آئینی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے شرکت سے معذرت کی جبکہ آئرلینڈ نے کہا ہے کہ وہ دعوت پر غور کر رہا ہے۔
چین کو بھی دعوت دی گئی ہے مگر اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے ساتھ وابستہ رہے گا۔
بورڈ پر عالمی اعتراضات اور خدشات
سفارتی ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے اس بورڈ کے وسیع اختیارات، ٹرمپ کی غیر معینہ سربراہی اور اقوامِ متحدہ کے کردار پر ممکنہ اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان خدشات کی ایک بڑی وجہ بورڈ میں مستقل نشست کے لیے 1 ارب ڈالر کی شرط ہے جو بدعنوانی کے خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ اس تاثر کا ابھرنا ہے کہ یہ بورڈ آف پیس دراصل اقوام متحدہ کے متوازی یا اس کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔
اس بورڈ پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ غزہ جنگ میں ملوث ممالک بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں جو امن کے مقصد سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متحدہ کے ممالک نے ٹرمپ کے کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز