خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشنز اور وفاقی امور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفرِدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب میں کہا ہے کہ صوبے میں فوجی آپریشنز صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اجازت کے بغیر مسلط کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ متاثرین کے لیے اعلان کردہ مالی تعاون فراہم نہیں کر رہی، جس سے صوبے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 90 دن سے زائد تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں فیملی اور دوستوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے اس کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سردی کے موسم میں بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سہیل آفرِدی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ وفاقی رویہ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا ہے۔ وفاق کی جانب سے دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ فراہم کرنے کی وجہ سے صوبائی حکومت نے ایڈ ان آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم معلومات کی کمی کی وجہ سے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے سیکیورٹی خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے وفاقی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینا اور شیڈول فور میں شامل کارکنان کی فہرست پر عملدرآمد غیر مناسب ہے۔ انہوں نے صوبائی ملازمین سے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے پوچھ گچھ کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے صوبے میں جاری فوجی آپریشنز کی مالی لاگت پر بھی روشنی ڈالی، بتایا کہ صوبائی حکومت نے اب تک 7.
سہیل آفرِدی نے کہا: صوبائی حکومت کو فوجی کارروائیوں میں شمولیت یا اجازت صوبائی اسمبلی کے بغیر نہیں دی جا سکتی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلیجنس کارروائیاں کی جا چکی ہیں، لیکن مسئلہ برقرار ہے۔ ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں اسپیشل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، اور اس کا ایک اجلاس بھی ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، قبائلی مشران اور سیاسی و مذہبی قیادت کو بٹھا کر مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور شہری حقوق محفوظ رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت انہوں نے کہا کہ سہیل ا کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔