شدید برف باری؛ پاک فوج کی تیراہ سے عارضی انخلاء کرنیوالے شہریوں کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سٹی 42 : پاک فوج کی جانب سے تیراہ سے عارضی انخلاء کرنے والے شہریوں کے لیے برف باری کے دوران امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
برف باری اور شدید سرد موسم کے دوران پاک فوج نقل تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے. برف باری کے دوران پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں پے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ اسکے علاوہ متاثرہ افراد کو خوراک، گرم رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
برف باری کے دوران متاثرہ خاندانوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور نقل مکانی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے منظم کیا جا رہا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی خصوصی دیکھ بھال کے لیے الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔ ا سکے علاو ہ برف باری کے دوران متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر بحران کی تشخیص اور صورتحال کی نگرانی کے لیے ٹیمیں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت حل نکالا جا سکے۔
پاک فوج کے یہ اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل وقت میں اپنے شہریوں کی حفاظت اور کفالت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
بنگلہ دیش ٹی 20ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا یا نہیں ؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: برف باری کے دوران پاک فوج کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔