حکومت نے 6 ماہ کے دوران 1254 ارب روپے بیرونی قرض لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران 1 ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرضہ لیا۔
وزارت اقتصادی امور کی سرکاری دستاویز کے مطابق حکومت نے گزشتہ مالی سال کی کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرضہ لیا، جولائی سے دسمبر پاکستان کو 17 ارب 67 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی ملی، جولائی سے دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت 1 ہزار 272 ارب ریکارڈ ہوئی۔
امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، ڈالر ٹرمز میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے، گزشتہ مالی سال پہلے چھ ماہ میں 3 ارب 60 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے تھے،پاکستان کو اس دوران آئی ایم ایف سے ملنے والا قرضہ اس کے علاوہ ہے ۔
گزشتہ 6 ماہ کے دوران نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب، پراجیکٹ ایڈ 487 ارب روپے رہی، اس میں سے بجٹ سپورٹ کیلئے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے، سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 137 ارب روپے قرض دیا۔
دستاویز کے مطابق رواں مالی سال مجموعی طور پر 5 ہزار 777 ارب روپے قرض لینے کا تخمینہ ہے، نومبر کے دوران 144 ارب روپے قرض حاصل کیا گیا تھا، جولائی میں 198 ارب، اگست میں 192 ارب روپے سے زائد قرض لیا، ستمبر میں 124 ارب روپے اور اکتوبر میں 133 ارب روپے کا قرض لیا۔
بتایا گیا ہے کہ دسمبر میں 97 کروڑ ڈالر باہمی معاہدوں اور کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت ملے، 23 کروڑ 61 لاکھ ڈالر کے نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس جاری کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کو ارب روپے مالی سال کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔