سانحہ گل پلازہ: لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کا صبر جواب دے گیا، انتظامیہ کے خلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
گل پلازہ سانحے میں لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کا صبر چھٹے روز بھی جواب دے گیا۔ جمعرات کے روز متاثرہ خاندان، خصوصاً خواتین، اپنے پیاروں کی تلاش میں جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
نجی میڈیا کے مطابق گل پلازہ کے قریب جمع ہونے والی خواتین نے ریسکیو اور انتظامی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خوفناک آتشزدگی کے بعد چھ دن گزر چکے ہیں، مگر انہیں اب تک کوئی واضح اور تسلی بخش جواب نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبہ ہٹانے کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ان کی اذیت اور بے بسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
احتجاج کے دوران خواتین نے ایم اے جناح روڈ پر نعرے بازی کی اور متاثرہ عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں روک لیا۔ اس موقع پر خواتین اپنے لاپتا بچوں اور عزیزوں کی تصاویر اٹھائے گل پلازہ کے سامنے کھڑی رہیں اور گل پلازہ کی مینجمنٹ کمیٹی کے عہدیداران کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
غم سے نڈھال خواتین کا کہنا تھا کہ چھ دن گزر جانے کے باوجود ان کے بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور کوئی ان کی فریاد سننے کو تیار نہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا کہ ریسکیو آپریشن فوری طور پر تیز کیا جائے اور لاپتا افراد کی تلاش جلد از جلد مکمل کی جائے تاکہ انہیں کم از کم اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔