سانحہ گل پلازہ؛ اتنی بڑی آگ کو صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، ڈی سی ساؤتھ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کراچی:
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی آگ کو صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔
گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ فوری طور پر واقعے کو صرف الیکٹرک شارٹ سرکٹ نہیں کہا جا سکتا، آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا نہیں اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔ بڑا سانحہ ہے چاہتے شفاف تحقیقات کریں۔
انہوں نے بتایا کہ دروازے بند کیوں تھے اس حوالے سے گواہوں سے بیان لیے گئے ہیں جبکہ دروازے بند کیے جانے سے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ہم ہر پہلوں پر تفتیش بھی کر رہے ہیں، کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔
جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ کون سے دروازے بند تھے اور کونسے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیںکراچی؛ گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی
گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران آگ میں پھنسے لوگوں کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی
سانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی، اموات میں اضافے کا اندیشہ ہے، پولیس سرجن
انہوں نے کہا کہ 55 سے 60 لاشیں ممکنہ طور پر نکالی جا چکی ہیں، کچھ انسانی اعضاء کے علاوہ تمام کے ڈی این اے لیے جا سکتے ہیں۔ بہت کم تعداد ہے جن کے ڈی این اے حاصل کرنے میں مشکلات ہیں۔
جاوید کھوسو نے بتایا کہ جہاں سالم حصہ ہے وہاں سرچ ہو چکا جبکہ زمین بوس ہونے والے حصے میں سرچنگ جاری ہے، مشینری کو بھی اس لیے رور رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے۔ عمارت کی حالت بہت خراب ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کر لیا گیا ہے۔
ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ سب سے درخواست کروں گا کہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان نہ دھریں، معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے، تقریباً 80 افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تحقیقات کی جا شارٹ سرکٹ گل پلازہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔