کراچی:

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی آگ کو صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔

گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ فوری طور پر واقعے کو صرف الیکٹرک شارٹ سرکٹ نہیں کہا جا سکتا، آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا نہیں اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔ بڑا سانحہ ہے چاہتے شفاف تحقیقات کریں۔

انہوں نے بتایا کہ دروازے بند کیوں تھے اس حوالے سے گواہوں سے بیان لیے گئے ہیں جبکہ دروازے بند کیے جانے سے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ہم ہر پہلوں پر تفتیش بھی کر رہے ہیں، کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔

جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ کون سے دروازے بند تھے اور کونسے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

کراچی؛ گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی

گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران آگ میں پھنسے لوگوں کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی

سانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی، اموات میں اضافے کا اندیشہ ہے، پولیس سرجن

انہوں نے کہا کہ 55 سے 60 لاشیں ممکنہ طور پر نکالی جا چکی ہیں، کچھ انسانی اعضاء کے علاوہ تمام کے ڈی این اے لیے جا سکتے ہیں۔ بہت کم تعداد ہے جن کے ڈی این اے حاصل کرنے میں مشکلات ہیں۔

جاوید کھوسو نے بتایا کہ جہاں سالم حصہ ہے وہاں سرچ ہو چکا جبکہ زمین بوس ہونے والے حصے میں سرچنگ جاری ہے، مشینری کو بھی اس لیے رور رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے۔ عمارت کی حالت بہت خراب ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کر لیا گیا ہے۔

ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ سب سے درخواست کروں گا کہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان نہ دھریں، معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے، تقریباً 80 افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحقیقات کی جا شارٹ سرکٹ گل پلازہ

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف