کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اصغر اچکزئی نے کہا کہ حکومت کیلئے کھربوں کی کرپشن جائز ہے، مگر ملازمین کو مراعات نہیں دی جاتی ہے۔ 4 فروری کو اسمبلی یا ریڈ زون میں احتجاج کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے ساتھ حکومتی رویہ اور پولیس کی کارروائیوں کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں صوبے کے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور ملازمین کی حمایت کا اعلان کیا۔ کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اے این پی رہنماء اصغر ترین اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سیاسی، معاشی اور سفارتی صورت سب کے سامنے ہے۔ سیاسی جماعتیں ہر مسئلے پر آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ حکومت نے بلوچستان کے عوام کے خلاف دہشت اور وہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ گرینڈ الائنس اپنے مطالبات کے لئے میدان میں نکلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کے مسائل کو سنجیدہ لینے کی بجائے انکی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ حکومت اپنے وعدے کو پورے کرنے کی بجائے اس سے مکر گئی۔ حکومت بلوچستان نے مارشل لاء دور کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ کیا سرکاری ملازمین جرائم پیشہ لوگ ہیں۔ انکے گھر پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ ملازمین کا مسئلہ بلوچستان کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں چند نوکر اپنی نوکری پکی کرنے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومت کے لئے کھربوں کی کرپشن جائز ہے، مگر ملازمین کو مراعات نہیں دی جاتی ہے۔ بلوچستان خطے کا گیمز چینجر ہے۔ پاکستان کی ترقی بلوچستان سے وابستہ ہے۔ ڈی آر اے کیوں نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے 11 مطالبات ہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں میں منہگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق ختم کی جائے۔ ریٹائرمنٹ کا عمل پنجاب کے طرز پر خودکار اور آن لائن کیا جائے۔ تمام محکموں کے ملازمین کو ٹائم سکیل دیا جائے۔ تمام ملازمین کو یوٹیلیٹی الاؤنس اور ہاؤس ڈیکوریشن دیا جائے۔ یونیز پر ہر قسم کی پابندی ختم اور انہیں آزادی دی جائے۔ اے جی آفس سے تمام اختیارات ضلعی سطح پر خزانہ آفس کو منتقل کئے جائیں۔ اصغر اچزکئی نے کہا کہ اے پی سی حکومت کے ملازمین پر تشد کرنے کی مذمت کرتی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ملازمین کے ساتھ آخری حد تک جائیں گے۔ حکومت 26 تاریخ تک حکومت کو وقت دیتی ہے کہ مالزمین کے مسائل حل کرے۔ 26 جنوری کو پورے بلوچستان میں احتجاج کریں گے۔ جبکہ 3 فروری کو تمام سیاسی جماعتوں کا دوبارہ اجلاس طلب کیا ہے۔ 4 فروری کو اسمبلی یا ریڈ زون میں احتجاج کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملازمین کو نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش