حکومت بلوچستان نے مارشل لاء دور کا رویہ اپنایا ہوا ہے، اصغر اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اصغر اچکزئی نے کہا کہ حکومت کیلئے کھربوں کی کرپشن جائز ہے، مگر ملازمین کو مراعات نہیں دی جاتی ہے۔ 4 فروری کو اسمبلی یا ریڈ زون میں احتجاج کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے ساتھ حکومتی رویہ اور پولیس کی کارروائیوں کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں صوبے کے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور ملازمین کی حمایت کا اعلان کیا۔ کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اے این پی رہنماء اصغر ترین اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سیاسی، معاشی اور سفارتی صورت سب کے سامنے ہے۔ سیاسی جماعتیں ہر مسئلے پر آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ حکومت نے بلوچستان کے عوام کے خلاف دہشت اور وہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ گرینڈ الائنس اپنے مطالبات کے لئے میدان میں نکلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کے مسائل کو سنجیدہ لینے کی بجائے انکی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ حکومت اپنے وعدے کو پورے کرنے کی بجائے اس سے مکر گئی۔ حکومت بلوچستان نے مارشل لاء دور کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ کیا سرکاری ملازمین جرائم پیشہ لوگ ہیں۔ انکے گھر پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ ملازمین کا مسئلہ بلوچستان کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں چند نوکر اپنی نوکری پکی کرنے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومت کے لئے کھربوں کی کرپشن جائز ہے، مگر ملازمین کو مراعات نہیں دی جاتی ہے۔ بلوچستان خطے کا گیمز چینجر ہے۔ پاکستان کی ترقی بلوچستان سے وابستہ ہے۔ ڈی آر اے کیوں نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے 11 مطالبات ہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں میں منہگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق ختم کی جائے۔ ریٹائرمنٹ کا عمل پنجاب کے طرز پر خودکار اور آن لائن کیا جائے۔ تمام محکموں کے ملازمین کو ٹائم سکیل دیا جائے۔ تمام ملازمین کو یوٹیلیٹی الاؤنس اور ہاؤس ڈیکوریشن دیا جائے۔ یونیز پر ہر قسم کی پابندی ختم اور انہیں آزادی دی جائے۔ اے جی آفس سے تمام اختیارات ضلعی سطح پر خزانہ آفس کو منتقل کئے جائیں۔ اصغر اچزکئی نے کہا کہ اے پی سی حکومت کے ملازمین پر تشد کرنے کی مذمت کرتی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ملازمین کے ساتھ آخری حد تک جائیں گے۔ حکومت 26 تاریخ تک حکومت کو وقت دیتی ہے کہ مالزمین کے مسائل حل کرے۔ 26 جنوری کو پورے بلوچستان میں احتجاج کریں گے۔ جبکہ 3 فروری کو تمام سیاسی جماعتوں کا دوبارہ اجلاس طلب کیا ہے۔ 4 فروری کو اسمبلی یا ریڈ زون میں احتجاج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملازمین کو نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔