اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کے تحت ٹورنٹو میں 2 روزہ کنونشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹورانٹو( رپورٹ: طارق مخدومی ) مغرب میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس طوفانی وقت میں اپنے دین پر سختی سے جمے رہیں۔
ان خیالات کا اظہار ٹورانٹو میں اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے زیر اہتمام دو روزہ کنونشن میں پاکستان، برطانیہ، مشرق وسطی،کینڈا، امریکہ ، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے اسکالرز نے کیا جن میں ڈاکٹر یاسر قاضی، ڈاکٹر عمر سلیمان، شیخ ابراہیم ہندی، ڈاکٹر الطاف حسین، الجزیرہ ٹی وی کے معروف صحافی سمیع ہمدی، ڈاکٹر اقبال مسعود ندوی، خالد رحمان، آکنا یو ایس اے کے سربراہ سعد کاظمی، آکنا کینیڈا کے امیر اسامہ لبیب اور دیگر نے خطاب کیا۔
اس دو روزہ کنونشن میں بنگلہ دیش، افغانستان اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے کینیڈین مسلمانوں نے اہم اجلاس منعقد کیے جن میں ان ممالک کی صورتحال اور بیرون ملک مسلمانوں کے عملی تعاون پر غور کیا گیا۔
مقررین نے نئ نسل پر زور دیا کہ وہ کینیڈا کے تمام معاملات میں مکمل حصہ ڈالیں اور اپنے دین پر فخر کرتے ہوئے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائین۔
مقررین نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کینیڈین مسلم کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت پر بلا خوف وخطر آواز اٹھائیں اور سوشل میڈیا کو بھی موثر انداز میں استعمال کریں۔
انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ مغرب میں اپنے دین اور کلچر پر کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کریں اور نوجوان لڑکیاں اپنی نوکری کو اپنی ازدواجی زندگی پر ہرگز ترجیح نہ دیں۔
اس موقع پر مختلف اسلامی تنظیموں اور اہم کاروباری اداروں کے اسٹالز لگائے گئے تھے جبکہ نوجوان طلباء وطالبات اور خواتین کے لیے خصوصی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔