ریاست اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم اور مذہبی انتہا پسندی تشویشناک، اے پی سی آر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں خوف، عدم تحفظ اور عدم رواداری کی فضا مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے، جسکے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد پر اکسانے، معاشی بائیکاٹ اور منظم ہراسانی کے واقعات پر مبنی ایک چشم کشا اور تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ دہلی میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے جاری کی گئی۔ جاری کردہ ریلیز کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری کے لئے اے پی سی آر کی ٹیم نے ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر شواہد جمع کئے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں خوف، عدم تحفظ اور عدم رواداری کی فضا مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دینے، روزگار اور تجارت کے بائیکاٹ اور نفرت پر مبنی مہم کے واقعات ایک تشویشناک معمول بنتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2021ء میں ہری دوار میں منعقد ہونے والی نام نہاد "دھرم سنسد" اس انتہا پسندانہ رجحان کی ایک واضح مثال ہے، جہاں متعدد مقررین نے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، تشدد پر اکسانے والے بیانات دئے اور آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی کی۔ ان تقاریر میں مسلمانوں کے قتل کی ترغیب، ہندو راشٹر کے قیام کے مطالبات اور اسلام و عیسائیت کے خلاف شدید نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی، جس کی ملک بھر میں سیول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور جمہوری حلقوں نے سخت مذمت کی۔
اے پی سی آر نے رپورٹ میں اس امر پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے اجتماعات میں شریک بعض مذہبی و سیاسی شخصیات نے قانون کی عملداری کو کھلے عام چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں سماج میں نفرت کے بیج بوئے گئے اور مسلمانوں کے خلاف ہراسانی، تشدد اور معاشی دباؤ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف آئینِ ہند کی روح اور اس کے سیکولر کردار کے منافی ہے بلکہ ریاست کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داریوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر اور سینیئر سابق آئی اے ایس افسر نجیب جنگ نے کہا کہ یہ رپورٹ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک سنگین وارننگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نفرت اور تشدد کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو اس کے نتائج جمہوریت، آئین اور سماجی یکجہتی کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوں گے، ریاستی اداروں کو فوری طور پر غیر جانبدارانہ کارروائی کرنی ہوگی۔ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق آئینِ ہند کی کھلی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والے عناصر کے خلاف کارروائی نہ ہونا قانون کی بالادستی کو کمزور کرتا ہے، انصاف اور برابری کے اصولوں کا نفاذ ہی اس بحران کا واحد حل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلمانوں کے خلاف اتراکھنڈ میں اے پی سی آر نفرت انگیز رپورٹ میں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔