کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران 9 رکنی ڈکیت گینگ کے 6 ملزمان ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
شہر قائد کے علاقے پاک کالونی پولیس نے مبینہ مقابلے کے دوران 9 رکنی افغان گینگ سے تعلق رکھنے والے 6 ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا، مقابلے میں پولیس کے چوکی انچارج سمیت 2 اہلکار زخمی ہوئے۔
ترجمان ڈسٹرکٹ کیماڑی پولیس کے مطابق مقابلہ پاک کالونی کے علاقے حسرت موہانی کالونی کے قریب ہوا جبکہ مارے جانے والے 6 میں سے 4 افغان ڈاکوؤں کی شناخت نقیب اللہ، عبدالباری، اللہ داد اور محبیب اللہ کے نام سے کی گئی جبکہ دیگر 2 کی شناحت کے حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ترجمان کے مطابق مارے جانے والے افغان ڈاکو 3 مقتولین بھائیوں کے قتل میں ملوث تھے جبکہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے چوکی انچارج جان شیر اور ایک پولیس اہلکار بازو پر گولی لگنے سے زخمی ہوا۔
پولیس کے مطابق کیماڑی ہارون آباد میں 20 جنوری 2025 کو انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا تھا جس میں ملزمان نے گھر میں گھس کر سگے بھائیوں اسد اللہ ، سمیع اللہ اور اکرم اللہ کو قتل جبکہ 2 افراد امیر عبداللہ اور شفیع اللہ کو زخمی کیا تھا۔
ڈاکوؤں کا گروہ گھروں میں گھس کر ڈکیتیاں، اسٹریٹ کرائم اور شہریوں سے رقم چھیننے کی وارداتوں میں ملوث تھا جبکہ مارے جانے والے ڈاکوؤں پر ڈکیتی ، اقدام قتل ، پولیس پر فائرنگ اور اسلحے کے مقدمات درج ہیں۔
مذکورہ افغان ڈکیت گروہ کے دیگر 2 ملزمان ولی اور حیات پاک کالونی پولیس کے ہاتھوں پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں، ہلاک ڈاکوؤں کا گروہ ماڑی پور میں ہاؤس رابری کی واردات میں بھی پولیس کو مطلوب تھا جہاں سے ڈاکوؤں نے ایک کروڑ سے زائد رقم ، موبائل فون اور طلائی زیوارات لوٹے تھے۔
واقعے کا مقدمہ ماڑی پور تھانے میں درج ہوا تھا۔
پولیس نے جائے وقوعہ پر قانونی کارروائی کے بعد ہلاک ہونے والے 6 ڈاکوؤں کی لاشوں کو ایدھی ایمبولینسوں کے ذریعے سول اسپتال منتقل کر دیا اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی نے بروقت کارروائی پر پاک کالونی پولیس کو شاباش دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک کالونی پولیس کے ڈاکوو ں
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز