Jasarat News:
2026-07-24@09:40:17 GMT

استغفار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سیدنا یزید بن اصمؒ کہتے ہیں کہ ایک شامی بہت طاقتور اور خوب لڑائی کرنے والا تھا، وہ سیدنا عمرؓ کی خدمت میں آیا کرتا تھا، وہ چند دن عمرؓ کو نظر نہ آیا، تو فرمایا: فلاں ابن فلاں کا کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اس نے تو شراب پینی شروع کر دی ہے اور مسلسل پی رہا ہے، عمرؓ نے اپنے منشی کو بلا کر فرمایا: خط لکھو:
یہ خط عمر بن الخطابؓ کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام، سلام علیک: میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو گناہوں کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑا انعام واحسان کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
پھر سیدنا عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کے لیے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اپنی طرف متوجہ فرما دے اور اسے توبہ کی توفیق عطا فرما دے، جب اس کے پاس سیدنا عمرؓ کا خط پہنچا، تو وہ اسے بار بار پڑھنے لگا اور کہنے لگا، وہ گناہوں کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔

ابونعیم کی روایت میں مزید ہے کہ وہ اسے بار بار پڑھتا رہا، پھر رونے لگا، پھر اس نے شراب پینی چھوڑ دی، جب عمرؓ کو اس کی یہ خبر پہنچی، تو فرمایا: ایسا کیا کرو، جب تم دیکھو کہ تمہارا بھائی پِھسل گیا ہے، اسے راہ راست پر لاؤ اور اسے اللہ کی معافی کا یقین دلاؤ اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور تم اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو (اور اسے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ کرو)۔
سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی اور اس نے مجھ سے پوچھا، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ میں نے زنا کیا تھا، جس سے میرے ہاں بچہ پیدا ہوا، پھر میں نے اس بچہ کو قتل کر ڈالا۔
میں نے کہا: نہیں (تم نے دو بڑے گناہ کیے ہیں، اس لیے) نہ تو تمہاری آنکھ کبھی ٹھنڈی ہو اور نہ تجھے شرافت وکرامت حاصل ہو، اس پر وہ عورت افسوس کرتی ہوئی اٹھ کر چلی گئی، پھر میں نے حضور اکرمؐ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور اس عورت نے جو کچھ کہا تھا اور میں نے اسے جو جواب دیا تھا، وہ سب حضورؐ کو بتایا، آپ نے فرمایا: تم نے اسے برا جواب دیا، کیا تم یہ آیت نہیں پڑھتے۔ ترجمہ: ’’اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش نہیں کرتے اور جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے، اس کو قتل نہیں کرتے، ہاں! مگر حق پر اور وہ زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسے کام کرے گا، تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا کہ قیامت کے روز اس کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ ذلیل وخوار ہو کر رہے گا، مگر جو (شرک اور معاصی سے) توبہ کرلے اور ایمان بھی لے آوے اور نیک کام کرتا رہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گزشتہ گناہوں کی جگہ نیکیاں عنایت فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے‘‘۔

پھر میں نے یہ آیتیں اس عورت کو پڑھ کر سنائیں، اس نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے میری خلاصی کی صورت بنا دی۔
ابن جریر کی ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ افسوس کرتے ہوئے ان کے پاس سے چلی گئی، (یعنی پہلی مرتبہ جب عورت نے مسئلہ دریافت کیا اور ابو ہریرہؓ نے وہ جواب دیا) اور وہ کہہ رہی تھی، ہائی افسوس! کیا یہ حسن جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے؟ اس روایت میں آگے یہ ہے کہ حضور اکرمؐ کے پاس سے ابوہریرہؓ واپس آئے اور انہوں نے مدینے کے تمام محلوں اور گھروں میں اس عورت کو ڈھونڈنا شروع کیا، اسے بہت ڈھونڈھا، لیکن وہ عورت کہیں نہیں ملی۔
اگلی رات کو وہ خود ابوہریرہؓ کے پاس آئی، تو حضور اکرمؐ نے جو جواب دیا تھا، وہ ابو ہریرہؓ نے اسے بتا دیا، وہ فوراً سجدے میں گر گئی اور کہنے لگی، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے میرے لیے خلاصی کی شکل بنا دی اور جو گناہ مجھ سے سر زد ہو گیا تھا، اس سے توبہ کا راستہ بتا دیا اور اس عورت نے اپنی ایک باندی او ر اس کی بیٹی آزاد کی اور اللہ کے سامنے سچی توبہ کی (تفسیر ابن کثیر)۔

مفتی ثناء اللہ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ تعالی کرنے والا جواب دیا کے لیے کے پاس اور اس

پڑھیں:

میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف

لیجنڈ گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے۔حال ہی میں عطا اللہ خان نے ایک انٹرویو میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق گفتگو کی۔آخرت کے حوالے سے میزبان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی قبر تیار کرلی ہے، عیسیٰ خیل میں میری قبر تیار ہے۔لیجنڈ گلوکار کا کہنا تھا کہ ہمارا خاندانی قبرستان الگ ہے، میں نے خاندانی قبرستان سے تھوڑی دوری پر اپنی قبر بنوائی ہے، اس جگہ پر دو تین قبروں کی جگہ ہے۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے بہت پیارے دوست اس دنیا سے چلے گئے، ماں باپ اور ایک بہن بھی دنیا سے رخصت ہوگئی، ہم نے بھی ایک دن چلے جانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • زندگی کا مقصد
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا