data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیدنا یزید بن اصمؒ کہتے ہیں کہ ایک شامی بہت طاقتور اور خوب لڑائی کرنے والا تھا، وہ سیدنا عمرؓ کی خدمت میں آیا کرتا تھا، وہ چند دن عمرؓ کو نظر نہ آیا، تو فرمایا: فلاں ابن فلاں کا کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اس نے تو شراب پینی شروع کر دی ہے اور مسلسل پی رہا ہے، عمرؓ نے اپنے منشی کو بلا کر فرمایا: خط لکھو:
یہ خط عمر بن الخطابؓ کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام، سلام علیک: میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو گناہوں کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑا انعام واحسان کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
پھر سیدنا عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کے لیے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اپنی طرف متوجہ فرما دے اور اسے توبہ کی توفیق عطا فرما دے، جب اس کے پاس سیدنا عمرؓ کا خط پہنچا، تو وہ اسے بار بار پڑھنے لگا اور کہنے لگا، وہ گناہوں کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔
ابونعیم کی روایت میں مزید ہے کہ وہ اسے بار بار پڑھتا رہا، پھر رونے لگا، پھر اس نے شراب پینی چھوڑ دی، جب عمرؓ کو اس کی یہ خبر پہنچی، تو فرمایا: ایسا کیا کرو، جب تم دیکھو کہ تمہارا بھائی پِھسل گیا ہے، اسے راہ راست پر لاؤ اور اسے اللہ کی معافی کا یقین دلاؤ اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور تم اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو (اور اسے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ کرو)۔
سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی اور اس نے مجھ سے پوچھا، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ میں نے زنا کیا تھا، جس سے میرے ہاں بچہ پیدا ہوا، پھر میں نے اس بچہ کو قتل کر ڈالا۔
میں نے کہا: نہیں (تم نے دو بڑے گناہ کیے ہیں، اس لیے) نہ تو تمہاری آنکھ کبھی ٹھنڈی ہو اور نہ تجھے شرافت وکرامت حاصل ہو، اس پر وہ عورت افسوس کرتی ہوئی اٹھ کر چلی گئی، پھر میں نے حضور اکرمؐ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور اس عورت نے جو کچھ کہا تھا اور میں نے اسے جو جواب دیا تھا، وہ سب حضورؐ کو بتایا، آپ نے فرمایا: تم نے اسے برا جواب دیا، کیا تم یہ آیت نہیں پڑھتے۔ ترجمہ: ’’اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش نہیں کرتے اور جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے، اس کو قتل نہیں کرتے، ہاں! مگر حق پر اور وہ زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسے کام کرے گا، تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا کہ قیامت کے روز اس کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ ذلیل وخوار ہو کر رہے گا، مگر جو (شرک اور معاصی سے) توبہ کرلے اور ایمان بھی لے آوے اور نیک کام کرتا رہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گزشتہ گناہوں کی جگہ نیکیاں عنایت فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے‘‘۔
پھر میں نے یہ آیتیں اس عورت کو پڑھ کر سنائیں، اس نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے میری خلاصی کی صورت بنا دی۔
ابن جریر کی ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ افسوس کرتے ہوئے ان کے پاس سے چلی گئی، (یعنی پہلی مرتبہ جب عورت نے مسئلہ دریافت کیا اور ابو ہریرہؓ نے وہ جواب دیا) اور وہ کہہ رہی تھی، ہائی افسوس! کیا یہ حسن جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے؟ اس روایت میں آگے یہ ہے کہ حضور اکرمؐ کے پاس سے ابوہریرہؓ واپس آئے اور انہوں نے مدینے کے تمام محلوں اور گھروں میں اس عورت کو ڈھونڈنا شروع کیا، اسے بہت ڈھونڈھا، لیکن وہ عورت کہیں نہیں ملی۔
اگلی رات کو وہ خود ابوہریرہؓ کے پاس آئی، تو حضور اکرمؐ نے جو جواب دیا تھا، وہ ابو ہریرہؓ نے اسے بتا دیا، وہ فوراً سجدے میں گر گئی اور کہنے لگی، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے میرے لیے خلاصی کی شکل بنا دی اور جو گناہ مجھ سے سر زد ہو گیا تھا، اس سے توبہ کا راستہ بتا دیا اور اس عورت نے اپنی ایک باندی او ر اس کی بیٹی آزاد کی اور اللہ کے سامنے سچی توبہ کی (تفسیر ابن کثیر)۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اللہ تعالی کرنے والا جواب دیا کے لیے کے پاس اور اس
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔