پاکستان میں غربت کی وجوہات اور حل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
حالیہ ورلڈ بینک رپورٹ 2025 اور دیگر قومی اندازوں کے مطابق پاکستان میں غربت کی صورت حال بہت زیادہ سنگین ہے، جس کے مطابق تقریباً 45 فیصد (10.56 کروڑ) آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور انتہائی غربت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025ء میں پاکستان میں غربت کی شرح، آئی ایم ایف کے پرانے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، جو شدید اقتصادی دباؤ اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ کو ظاہر کرتی ہے۔
ورلڈ بینک غربت کو اس حالت کے طور پر بیان کرتا ہے جس میں افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی آمدنی یا وسائل نہ ہوں، اور اسے عالمی غربت کی طرز پر جیسے 2.
پاکستان میں غربت کی وجوہات طویل مدتی اقتصادی دباؤ اور گہری سماجی عدم مساوات ہے۔ معیار تعلیم اور ہنر کی کمی بہت سے افراد کو مستحکم اور بہتر معاوضے والی ملازمتیں حاصل کرنے سے روکتی ہے، جب کہ آبادی کی تیز رفتار بڑھوتری پہلے سے محدود وسائل پر دباؤ ڈالتی ہے۔ کمزور حکمرانی، شہری اور دیہی علاقوں میں غیر مساوی ترقی، اور بار بار سیاسی خلفشار اقتصادی ترقی کو سست کرتے اور روزگار کے مواقع کم کر دیتے ہیں۔ مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتیں، اور بار بار آنے والی قدرتی آفات جیسے سیلاب بھی گھریلو آمدنی کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا چکر پیدا کرتے ہیں جس میں بہت سے خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور بہت کم مواقع حاصل کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کی حالت بہتر کر سکیں۔
2024–25 کے دوران، جنوب اور مغربی ایشیا میں غربت کی سطح میں وسیع فرق موجود ہے۔ چین نے تین ڈالر روزانہ کے اصول کے تحت انتہائی غربت تقریباً ختم کر دی ہے، اگرچہ نسبتی غربت اور عدم مساوات ابھی بھی موجود ہیں۔ بھارت نے انتہائی غربت کو تقریباً چھ فیصد تک کم کر دیا ہے، بنگلہ دیش نے بھی انتہائی غربت کو اسی حد تک اور مجموعی غربت کو تقریباً 18/19 فیصد تک کم کیا ہے، اگرچہ بعض قومی رپورٹس کے مطابق یہ شرح تقریباً 28 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے اعداد و شمار انتہائی غربت کم ظاہر کرتے ہیں، لیکن قومی ذرائع کے مطابق تقریباً 30 فیصد آبادی اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ ترکی میں غربت کی شرح 14 فیصد ہے، جو وسیع آمدنی کے معیار کے تحت 21 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں تقریباً 45 فیصد آبادی بین الاقوامی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور 17فیصد انتہائی غربت میں ہیں۔ مجموعی طور پر، پاکستان کی صورتحال اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ سنگین ہے، جس میں شدید اقتصادی کمزوری، مہنگائی، اور بنیادی سہولیات تک محدود رسائی شامل ہیں، جبکہ دیگر ممالک کی بڑی آبادی اقتصادی مشکلات اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خطرات سے دوچار ہے۔
2024 میں، یورپی یونین کی تقریباً 16.2 فیصد آبادی (72 ملین) غربت کے خطرے میں تھی، جبکہ تقریباً 21 فیصد لوگ غربت یا سماجی اخراج کا سامنا کر رہے تھے، جس میں کم آمدنی، معاشی تنگدستی، روزگار کے کم ہوتے مواقع شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سرکاری غربت کی شرح 10.6فیصد (36 ملین) تھی، جو ٹیکس اور زندگی کے اخراجات کو شامل کرنے والی وسیع پیمانے کی ماپ کے تحت 12.9فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ دونوں علاقوں میں ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں غربت کی شرح کم ہے، تاہم اب بھی بڑی تعداد میں افراد اقتصادی دباؤ اور عدم مساوات کا سامنا کر رہے ہیں۔
چین، یورپ اور امریکہ نے غربت کم کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اپنائی ہیں۔ چین نے غربت کمی کے ہدفی پروگرام نافذ کیے، لوگوں کو دور دراز علاقوں سے منتقل کیا، دیہی انفراسٹرکچر بہتر کیا، تعلیم اور صحت تک رسائی بڑھائی، قرضے اور روزگار کی سہولتیں فراہم کیں، جس سے کروڑوں افراد کو انتہائی غربت سے نکالا گیا۔
یورپ میں جامع سوشل ویلفیئر سسٹمز، بشمول بے روزگاری کے فوائد، بچوں کے الاؤنس، ہاؤسنگ سپورٹ، ترقی پسند ٹیکس، اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں فرق کم کرنے کے لیے ریجنل ڈویلپمنٹ فنڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔ امریکہ میں غربت کم کرنے کی حکمت عملی میں سماجی حفاظتی نیٹ اور ہدفی پروگرام شامل ہیں، جیسے سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام (SNAP)، میڈیکیڈ، ارنڈ انکم ٹیکس کریڈٹ (EITC)، ہاؤسنگ واؤچرز، اور کم از کم اجرت کی پالیسیاں، جو براہِ راست نقد امداد کو روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ جوڑتی ہیں۔
صنعت کاری اور چھوٹے شہروں کی ترقی پاکستان میں غربت کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ یہ ملازمتیں پیدا کرتی اور اجرتیں بڑھاتی ہے، اور پیداواریت میں اضافہ کرتی ہے۔ جب اسے تعلیم، ہنر کی تربیت، دیہی ترقی، سماجی حفاظتی نیٹ، اور قرض تک رسائی کے ساتھ جوڑا جائے تو چھوٹے شہروں کے لوگ بھی مستحکم آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں بنیادی ڈھانچے، صحت کی سہولیات اور مقامی صنعتوں کو بہتر بنانے سے انسانی سرمایہ بڑھتا ہے، بڑے شہروں کی طرف ہجرت کم ہوتی ہے، مقامی معیشتیں مستحکم ہوتی ہیں، اور دیہی و نیم شہری آبادی غربت سے نکل سکتی ہے۔
پاکستانی حکومت نے غربت کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں احساس پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کی امداد، خوراک اور صحت کی سبسڈی، اور قرضوں کے ذریعے چھوٹے کاروبار اور کاروباری مواقع کو فروغ دینا شامل ہے۔ حکومت نے دیہی ترقی، زرعی پیداوار بڑھانے، اور عوامی منصوبوں اور ہنر کی تربیت کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی ہے۔ علاوہ ازیں، تعلیم اور سوشل سروسز تک رسائی کو بڑھانے کے لیے پالیسیاں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے ہدفی اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ کمزور گروہوں کی مدد ہو اور گھرانے اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
پاکستان میں غربت کو مؤثر طریقے سے کم کرنے کے لیے ہمہ جہت اقتصادی، سیاسی اور سماجی اقدامات اور پالیسی کا ہونا ضروری ہے۔ حکومت کو نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع اور ہنر کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے، جس میں فنی تربیت، کاروباری پروگرام، اور چھوٹے و درمیانے کاروبار (SMEs) کی مدد شامل ہے۔ معیار تعلیم اور صحت تک رسائی بڑھانا انسانی سرمایہ اور طویل مدتی آمدنی کے مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔
سماجی حفاظتی نیٹ، جیسے نقد امداد کے پروگرام اور خوراک کی سبسڈی، کو مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ کمزور گھرانے مہنگائی یا قدرتی آفات جیسے صدمات سے محفوظ رہ سکیں۔ دیہی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، اور زرعی پیداوار میں اضافہ بھی غربت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ زیادہ تر غریب آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ اس ضمن میں آخری بات یہ کہ اچھی حکمرانی، بدعنوانی کے خاتمے، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہیں تاکہ ترقی کے فوائد سب محروم طبقوں تک پہنچیں اور غربت کے گھن چکر کو توڑا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں غربت کی روزگار کے مواقع کم کرنے کے لیے انتہائی غربت غربت کی شرح عدم مساوات علاقوں میں تعلیم اور کے مطابق کرتے ہیں تک رسائی فیصد تک غربت کو رہی ہے کے تحت ہنر کی فیصد ا
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔