اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سےمتعلق صدارتی آرڈیننس، التوا کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق صدارتی آرڈیننس اور التواء کے خلاف درخواست پر وفاق اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا جبکہ عدالت نے اسی نوعیت کی جماعت اسلامی کے کیس کے ساتھ درخواست کو یکجا کردیا.
اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس محمد اعظم خان نے مرکزی مسلم لیگ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار انعام الرحمن کمبوہ اپنے وکیل اشفاق احمدکھرل کے کیساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل نے دلائل دیے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا صدارتی آرڈیننس چیلنچ کیاہے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہوناچاہیے، شیڈول کا اعلان کیا گیا کاغذات بھی جمع ہوئے، تمام ریکوائرمنٹ پوری ہونے کے باوجود الیکشن ملتوی کردیے گئے.
درخواستگزار وکیل نے کہا کہ اسلام آبادمیں چوتھی مرتبہ بلدیاتی الیکشن ملتوی کیاگیایے، عدالت صدراتی آرڈیننس کالعدم قرار دیکر سلام آبادمیں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے وفاق اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت27 جنوری تک ملتوی کردی.
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔