Jasarat News:
2026-06-02@22:15:19 GMT

چاہ بہار سے بھارتی پسپائی: اسٹرٹیجک خواب کی شکست

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی پابندیوں کی نئی لہر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی حکمت ِ عملی اور خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات نے بھارت کے اس طویل المدتی اسٹرٹیجک خواب کو بْری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جس کا محور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ تھی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جس منصوبے کو نئی دہلی خطے میں اپنی سفارتی، تجارتی اور تزویراتی کامیابی کی علامت بنا کر پیش کرتا رہا، آج وہی منصوبہ خاموشی کے ساتھ انجام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر کسی بڑے اعلان یا ڈرامائی بیان کے بغیر، لیکن عملی اقدامات اس حقیقت کی تصدیق کر رہے ہیں کہ بھارت نے چاہ بہار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور اس پسپائی نے اس کے علاقائی عزائم کو گہرے سوالات میں مبتلا کر دیا ہے۔ چاہ بہار منصوبہ بھارت کے لیے محض ایک بندرگاہ نہیں تھا بلکہ یہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور افغانستان تک رسائی کا ایک متبادل راستہ تھا جس کے ذریعے نئی دہلی پاکستان کو بائی پاس کر کے اپنی معاشی و اسٹرٹیجک موجودگی مستحکم کرنا چاہتا تھا۔ اسی منصوبے کو بھارت نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، خصوصاً گوادر بندرگاہ کے مقابل ایک تزویراتی جواب کے طور پر پیش کیا۔ مگر عالمی سیاست میں طاقت کے مراکز بدلتے دیر نہیں لگتی، اور امریکی پالیسیوں میں اچانک سختی نے بھارت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں اس کے پاس انتخاب محدود اور خطرات کہیں زیادہ تھے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے 25 فی صد ٹیرف کی کھلی وارننگ اور ایران کے خلاف دوبارہ عائد کی گئی سخت پابندیوں نے بھارتی قیادت کے لیے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی اور تجارتی تعلقات تھے، جنہیں بھارت کسی صورت داؤ پر لگانے کو تیار نہیں تھا، اور دوسری طرف ایران کے ساتھ وہ شراکت داری تھی جو واشنگٹن کی نظروں میں ہمیشہ مشکوک رہی۔ ایسے میں نئی دہلی نے وہی راستہ اختیار کیا جو عالمی سیاست میں کمزور یا محتاط ریاستیں عموماً اختیار کرتی ہیں: خاموش پسپائی۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 120 ملین ڈالر کی ادائیگی کے بعد بھارت نے چاہ بہار سے عملی علٰیحدگی اختیار کر لی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی منصوبے سے وابستہ بھارتی اداروں کی ویب سائٹس بند ہو گئیں، ڈائریکٹرز نے استعفے دے دیے اور آپریشنل کنٹرول ایران کے حوالے کر دیا گیا۔ اگرچہ باضابطہ طور پر چھے ماہ کی امریکی رعایت یا وقتی استثنا کا حوالہ دیا جاتا رہا، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ فیصلہ واضح اور حتمی تھا۔ بھارت نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ امریکی دباؤ کے سامنے چاہ بہار جیسے منصوبے کی قربانی دینا اس کے وسیع تر مفادات کے لیے کم نقصان دہ ہے۔

ایران کے اندرونی حالات نے بھی اس فیصلے کو مزید آسان بنا دیا۔ شدید حکومت مخالف احتجاج، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی نے تہران کو ایک غیر یقینی شراکت دار بنا دیا تھا۔ بھارت، جو خود کو ایک ’’ذمے دار عالمی طاقت‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں ہے، کسی ایسے منصوبے میں الجھ کر نہیں رہنا چاہتا تھا جو اسے امریکی پابندیوں، مالی خطرات اور سفارتی تناؤ کی دلدل میں دھکیل دے۔ یوں چاہ بہار، جو کبھی بھارت کی اسٹرٹیجک بصیرت کی مثال سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ ایک بوجھ بن گیا۔ اس پس منظر میں سب سے بڑا نقصان بھارت کے اس خواب کو پہنچا ہے جو افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی سے وابستہ تھا۔ چاہ بہار کے بغیر نئی دہلی کے پاس زمینی اور بحری راستوں کے وہ متبادل باقی نہیں رہے جن پر اس نے برسوں سرمایہ کاری اور سفارتی توانائی صرف کی تھی۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور خطے میں چین، روس اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھارت کے لیے ویسے ہی مشکلات پیدا کر رکھی تھیں، اب چاہ بہار سے علٰیحدگی نے اس کے آپشنز کو مزید محدود کر دیا ہے۔

یہ صورتحال اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی نظام میں خود مختاری کے دعوے کس حد تک طاقت کے توازن کے تابع ہوتے ہیں۔ بھارت بظاہر ’’اسٹرٹیجک خود مختاری‘‘ کا نعرہ لگاتا رہا، مگر عملی طور پر امریکی دباؤ کے سامنے اسے ایک اہم منصوبے سے دستبردار ہونا پڑا۔ یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا نئی دہلی واقعی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے یا پھر وہ واشنگٹن کی ترجیحات کے مطابق اپنے فیصلے ترتیب دینے پر مجبور ہے؟ چاہ بہار سے بھارتی اخراج کا ایک اور پہلو خطے میں طاقت کے نئے توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایران اب اس بندرگاہ کو دیگر شراکت داروں کے ساتھ آگے بڑھانے پر غور کر سکتا ہے، جبکہ چین پہلے ہی خطے میں اپنی موجودگی مضبوط کر چکا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال ایک سفارتی موقع اور تزویراتی اطمینان کا باعث ہو سکتی ہے، کیونکہ گوادر بندرگاہ کے مقابل کھڑا کیا جانے والا منصوبہ خود اپنے بوجھ تلے دب گیا ہے۔

آخرکار، چاہ بہار کی کہانی ایک سبق ہے کہ بڑے دعوے، لمبے منصوبے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی عالمی سیاست کی بے رحم حقیقتوں کے سامنے ٹک نہیں پاتی۔ امریکی پابندیاں، ٹرمپ کی تجارتی دھمکیاں اور ایران کی اندرونی بے چینی نے مل کر بھارت کے اسٹرٹیجک خواب کو چکنا چور کر دیا۔ یہ محض ایک بندرگاہ سے علٰیحدگی نہیں بلکہ ایک دہائی پر محیط پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے، جو اگرچہ خاموشی سے کیا گیا، مگر اس کی بازگشت پورے خطے میں سنائی دے رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چاہ بہار سے بھارت نے نئی دہلی بھارت کے نے بھارت ایران کے کے ساتھ کر دیا کے لیے

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار