چاہ بہار سے بھارتی پسپائی: اسٹرٹیجک خواب کی شکست
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260123-03-4
امریکی پابندیوں کی نئی لہر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی حکمت ِ عملی اور خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات نے بھارت کے اس طویل المدتی اسٹرٹیجک خواب کو بْری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جس کا محور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ تھی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جس منصوبے کو نئی دہلی خطے میں اپنی سفارتی، تجارتی اور تزویراتی کامیابی کی علامت بنا کر پیش کرتا رہا، آج وہی منصوبہ خاموشی کے ساتھ انجام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر کسی بڑے اعلان یا ڈرامائی بیان کے بغیر، لیکن عملی اقدامات اس حقیقت کی تصدیق کر رہے ہیں کہ بھارت نے چاہ بہار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور اس پسپائی نے اس کے علاقائی عزائم کو گہرے سوالات میں مبتلا کر دیا ہے۔ چاہ بہار منصوبہ بھارت کے لیے محض ایک بندرگاہ نہیں تھا بلکہ یہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور افغانستان تک رسائی کا ایک متبادل راستہ تھا جس کے ذریعے نئی دہلی پاکستان کو بائی پاس کر کے اپنی معاشی و اسٹرٹیجک موجودگی مستحکم کرنا چاہتا تھا۔ اسی منصوبے کو بھارت نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، خصوصاً گوادر بندرگاہ کے مقابل ایک تزویراتی جواب کے طور پر پیش کیا۔ مگر عالمی سیاست میں طاقت کے مراکز بدلتے دیر نہیں لگتی، اور امریکی پالیسیوں میں اچانک سختی نے بھارت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں اس کے پاس انتخاب محدود اور خطرات کہیں زیادہ تھے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے 25 فی صد ٹیرف کی کھلی وارننگ اور ایران کے خلاف دوبارہ عائد کی گئی سخت پابندیوں نے بھارتی قیادت کے لیے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی اور تجارتی تعلقات تھے، جنہیں بھارت کسی صورت داؤ پر لگانے کو تیار نہیں تھا، اور دوسری طرف ایران کے ساتھ وہ شراکت داری تھی جو واشنگٹن کی نظروں میں ہمیشہ مشکوک رہی۔ ایسے میں نئی دہلی نے وہی راستہ اختیار کیا جو عالمی سیاست میں کمزور یا محتاط ریاستیں عموماً اختیار کرتی ہیں: خاموش پسپائی۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 120 ملین ڈالر کی ادائیگی کے بعد بھارت نے چاہ بہار سے عملی علٰیحدگی اختیار کر لی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی منصوبے سے وابستہ بھارتی اداروں کی ویب سائٹس بند ہو گئیں، ڈائریکٹرز نے استعفے دے دیے اور آپریشنل کنٹرول ایران کے حوالے کر دیا گیا۔ اگرچہ باضابطہ طور پر چھے ماہ کی امریکی رعایت یا وقتی استثنا کا حوالہ دیا جاتا رہا، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ فیصلہ واضح اور حتمی تھا۔ بھارت نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ امریکی دباؤ کے سامنے چاہ بہار جیسے منصوبے کی قربانی دینا اس کے وسیع تر مفادات کے لیے کم نقصان دہ ہے۔
ایران کے اندرونی حالات نے بھی اس فیصلے کو مزید آسان بنا دیا۔ شدید حکومت مخالف احتجاج، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی نے تہران کو ایک غیر یقینی شراکت دار بنا دیا تھا۔ بھارت، جو خود کو ایک ’’ذمے دار عالمی طاقت‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں ہے، کسی ایسے منصوبے میں الجھ کر نہیں رہنا چاہتا تھا جو اسے امریکی پابندیوں، مالی خطرات اور سفارتی تناؤ کی دلدل میں دھکیل دے۔ یوں چاہ بہار، جو کبھی بھارت کی اسٹرٹیجک بصیرت کی مثال سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ ایک بوجھ بن گیا۔ اس پس منظر میں سب سے بڑا نقصان بھارت کے اس خواب کو پہنچا ہے جو افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی سے وابستہ تھا۔ چاہ بہار کے بغیر نئی دہلی کے پاس زمینی اور بحری راستوں کے وہ متبادل باقی نہیں رہے جن پر اس نے برسوں سرمایہ کاری اور سفارتی توانائی صرف کی تھی۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور خطے میں چین، روس اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھارت کے لیے ویسے ہی مشکلات پیدا کر رکھی تھیں، اب چاہ بہار سے علٰیحدگی نے اس کے آپشنز کو مزید محدود کر دیا ہے۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی نظام میں خود مختاری کے دعوے کس حد تک طاقت کے توازن کے تابع ہوتے ہیں۔ بھارت بظاہر ’’اسٹرٹیجک خود مختاری‘‘ کا نعرہ لگاتا رہا، مگر عملی طور پر امریکی دباؤ کے سامنے اسے ایک اہم منصوبے سے دستبردار ہونا پڑا۔ یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا نئی دہلی واقعی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے یا پھر وہ واشنگٹن کی ترجیحات کے مطابق اپنے فیصلے ترتیب دینے پر مجبور ہے؟ چاہ بہار سے بھارتی اخراج کا ایک اور پہلو خطے میں طاقت کے نئے توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایران اب اس بندرگاہ کو دیگر شراکت داروں کے ساتھ آگے بڑھانے پر غور کر سکتا ہے، جبکہ چین پہلے ہی خطے میں اپنی موجودگی مضبوط کر چکا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال ایک سفارتی موقع اور تزویراتی اطمینان کا باعث ہو سکتی ہے، کیونکہ گوادر بندرگاہ کے مقابل کھڑا کیا جانے والا منصوبہ خود اپنے بوجھ تلے دب گیا ہے۔
آخرکار، چاہ بہار کی کہانی ایک سبق ہے کہ بڑے دعوے، لمبے منصوبے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی عالمی سیاست کی بے رحم حقیقتوں کے سامنے ٹک نہیں پاتی۔ امریکی پابندیاں، ٹرمپ کی تجارتی دھمکیاں اور ایران کی اندرونی بے چینی نے مل کر بھارت کے اسٹرٹیجک خواب کو چکنا چور کر دیا۔ یہ محض ایک بندرگاہ سے علٰیحدگی نہیں بلکہ ایک دہائی پر محیط پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے، جو اگرچہ خاموشی سے کیا گیا، مگر اس کی بازگشت پورے خطے میں سنائی دے رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چاہ بہار سے بھارت نے نئی دہلی بھارت کے نے بھارت ایران کے کے ساتھ کر دیا کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔