data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے مرکز بہادر آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کی موجودہ صورتحال اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں انسانی جانوں کا زیاں ایک معمول بن چکا ہے اور کوئی بھی اس بات کی ضمانت دینے کو تیار نہیں کہ یہ شہر کا آخری سانحہ ہوگا۔ کبھی معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر مر رہے ہیں تو کبھی بلند و بالا عمارتیں انتظامیہ کی کرپشن کی وجہ سے مسمار ہو رہی ہیں۔ مصطفی کمال نے پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے سندھ پر حکمران ٹولہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ایم کیو ایم پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ گزشتہ کئی سال سے میئر، صوبائی حکومت اور وفاق میں شراکت داری انہی کی ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ جس شہر پر 25 سال تک ’’ر‘‘ کا تسلط تھا، ایم کیو ایم کے نوجوانوں نے اپنی جانیں دے کر اور ٹرک بھر بھر کر اسلحہ ریاست کے حوالے کر کے اس فتنے کو ختم کیا، لیکن آج اسی شہر کو “جمہوری دہشت گردی” کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سید مصطفی کمال نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء اور رحمن ملک جیسے لوگ لندن جا کر بانی ایم کیو ایم کے ذاتی معاملات حل کیا کرتے تھے اور آج وہی لوگ ایم کیو ایم پر الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے 18 ویں ترمیم کو ملک کے لیے “ناسور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم صرف کرپشن اور نسل کشی کا ذریعہ بن چکی ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کو آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت فوری طور پر وفاق کے حوالے کیا جائے کیونکہ سندھ کی انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے خوف سے اس شہر کے لیے اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔ مصطفی کمال نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنی حکمت عملی طے کر لی ہے اور اگر شہری علاقوں کے حقوق کے لیے ہماری ترامیم منظور نہ ہوئیں تو ہم استعفیٰ دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے، کیونکہ ہم مزید لاشیں اٹھانے اور اپنے لوگوں کی نسل کشی ہوتے دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس موقع پر سینئر مرکزی رہنما انیس احمد قائم خانی، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر مرکزی رہنما بھی موجود تھے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مصطفی کمال نے ایم کیو ایم کے حوالے کے لیے

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی