سانحہ گل پلازہ نے بلاول کے نام نہاد سندھ وژن کو جلا کر راکھ کر دیا ٗ منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ساتھ جمعرات کے روزادارہ نورحق میں سانحہ گل پلازہ و دیگر شہری امور کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ سانحہ گل پلازہ نے بلاول زرداری کے نام نہاد سندھ وژن کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 برس سے سندھ پر مسلط
ہے مگر سندھ حکومت کے تحت تمام ادارے ناکامی کی منہ بولتی تصویر بن چکے ہیں۔سندھ حکومت کراچی کے لیے سیکورٹی رسک بن چکی ہے۔سانحہ گل پلازہ کو کئی دن گزرنے کے باوجود اب تک تمام لاشیں نہیں نکالی جا سکیں۔ ساڑھے 3 کروڑ آبادی والے شہر کے لیے صرف 60 فائر ٹینڈر، 10 فائر باؤزر اور 6 اسنارکل موجود ہیں جبکہ قابض میئر مرتضیٰ وہاب کا کراچی سے عدم دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ وہ 23 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں ہے؟ شہر کی 75 فیصد عمارتوں میں آگ بجھانے کے بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کام نہیں کرسکتی تو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور قابض میئر کراچی کواستعفا دے دینا چاہیے۔ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال خود وفاق کا حصہ ہیں، وہ مطالبات کس سے کر رہے ہیں؟ پیپلز پارٹی کے تمام جرائم میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ کراچی کی تباہی، نوجوان نسل کی بربادی اور بوری بند لاشوں کے تحفے میں ایم کیو ایم براہِ راست شریک رہی ہے۔جماعت اسلامی کراچی کے جائز و قانونی حق کے حصول کے لیے یکم فروری کو سہ پہر 3 بجے شارع فیصل پر’’جینے دو کراچی کو ‘‘مارچ منعقد کرے گی، جس میں پورے شہر سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔ کراچی لاوارث نہیں، جماعت اسلامی اس شہر کا مقدمہ لڑتی رہے گی۔منعم ظفر خان نے حکومت پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی غلامی پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے۔ جس بورڈ میں ٹرمپ اور ٹونی بلیئر جیسے کردار شامل ہوں، وہ امن نہیں بلکہ نوآبادیاتی نظام کا تسلسل ہے۔ پاکستانی قوم اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس بورڈ میں شمولیت سے دستبردار ہو۔ جماعت اسلامی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مؤقف کے مطابق اسرائیل کو ناجائز ریاست سمجھتی ہے اور اسی اصول پر قائم ہے۔منعم ظفر خان نے کہاکہ کمشنر پر مشتمل روایتی کمیٹیاں کسی صورت قبول نہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ گل پلازہ کے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری معاوضہ دیا جائے، متاثرہ دکانداروں کو فوری مالی امداد اور متبادل کاروباری جگہ فراہم کی جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے حاضر ڈیوٹی جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز، تاجر اور کاروباری طبقہ شامل ہوں۔ الخدمت کے رضاکار 5دن سے جائے حادثہ پر موجود ہیں، کیمپس لگے ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی حادثے میں جاں بحق افراد کے بچوں کی کفالت کرے گی جن کی سرپرستی الخدمت آرفن پروگرام کے تحت کی جائے گی۔امیرجماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ کراچی ملک کا معاشی حب ہونے کے باوجود بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، نصف سے زائد شہر کو پینے کا پانی میسر نہیں اور ٹینکر مافیا کا راج ہے۔ کے فور منصوبہ 21 برس بعد بھی مکمل نہ ہو سکا جبکہ آگمنٹیشن کے نام پر شہر کو نیپا سے حسن اسکوائر تک کھود کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ کراچی میں اگر کوئی بچہ گٹر میں گر جائے تو حکومت ذمے داری دوسروں پر ڈال دیتی ہے۔ گزشتہ سال 90 شہری اسٹریٹ کرمنلز کی گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ 64 ہزار سے زائد اسٹریٹ کرائمز رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن اہل کراچی کے لیے وبالِ جان بن چکی ہے اور شہر کا انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ حال ہے۔ جہانگیر روڈ، ایس ایم توفیق روڈ، 7 ہزار فٹ روڈ، ایم ایم عالم روڈ اور منگھو پیر روڈتباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ 60دن کے وعدے پر 60دن گزرنے کے بعد مزید 60دن بھی گزر گئے مگر قابض میئر کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی، نائب صدر وانچارج کے الیکٹرک کمپلینٹ سیل عمران شاہد ودیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی سانحہ گل پلازہ کراچی کے کے لیے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔