data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ساتھ جمعرات کے روزادارہ نورحق میں سانحہ گل پلازہ و دیگر شہری امور کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ سانحہ گل پلازہ نے بلاول زرداری کے نام نہاد سندھ وژن کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 برس سے سندھ پر مسلط
ہے مگر سندھ حکومت کے تحت تمام ادارے ناکامی کی منہ بولتی تصویر بن چکے ہیں۔سندھ حکومت کراچی کے لیے سیکورٹی رسک بن چکی ہے۔سانحہ گل پلازہ کو کئی دن گزرنے کے باوجود اب تک تمام لاشیں نہیں نکالی جا سکیں۔ ساڑھے 3 کروڑ آبادی والے شہر کے لیے صرف 60 فائر ٹینڈر، 10 فائر باؤزر اور 6 اسنارکل موجود ہیں جبکہ قابض میئر مرتضیٰ وہاب کا کراچی سے عدم دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ وہ 23 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں ہے؟ شہر کی 75 فیصد عمارتوں میں آگ بجھانے کے بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کام نہیں کرسکتی تو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور قابض میئر کراچی کواستعفا دے دینا چاہیے۔ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال خود وفاق کا حصہ ہیں، وہ مطالبات کس سے کر رہے ہیں؟ پیپلز پارٹی کے تمام جرائم میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ کراچی کی تباہی، نوجوان نسل کی بربادی اور بوری بند لاشوں کے تحفے میں ایم کیو ایم براہِ راست شریک رہی ہے۔جماعت اسلامی کراچی کے جائز و قانونی حق کے حصول کے لیے یکم فروری کو سہ پہر 3 بجے شارع فیصل پر’’جینے دو کراچی کو ‘‘مارچ منعقد کرے گی، جس میں پورے شہر سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔ کراچی لاوارث نہیں، جماعت اسلامی اس شہر کا مقدمہ لڑتی رہے گی۔منعم ظفر خان نے حکومت پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی غلامی پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے۔ جس بورڈ میں ٹرمپ اور ٹونی بلیئر جیسے کردار شامل ہوں، وہ امن نہیں بلکہ نوآبادیاتی نظام کا تسلسل ہے۔ پاکستانی قوم اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس بورڈ میں شمولیت سے دستبردار ہو۔ جماعت اسلامی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مؤقف کے مطابق اسرائیل کو ناجائز ریاست سمجھتی ہے اور اسی اصول پر قائم ہے۔منعم ظفر خان نے کہاکہ کمشنر پر مشتمل روایتی کمیٹیاں کسی صورت قبول نہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ گل پلازہ کے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری معاوضہ دیا جائے، متاثرہ دکانداروں کو فوری مالی امداد اور متبادل کاروباری جگہ فراہم کی جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے حاضر ڈیوٹی جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز، تاجر اور کاروباری طبقہ شامل ہوں۔ الخدمت کے رضاکار 5دن سے جائے حادثہ پر موجود ہیں، کیمپس لگے ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی حادثے میں جاں بحق افراد کے بچوں کی کفالت کرے گی جن کی سرپرستی الخدمت آرفن پروگرام کے تحت کی جائے گی۔امیرجماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ کراچی ملک کا معاشی حب ہونے کے باوجود بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، نصف سے زائد شہر کو پینے کا پانی میسر نہیں اور ٹینکر مافیا کا راج ہے۔ کے فور منصوبہ 21 برس بعد بھی مکمل نہ ہو سکا جبکہ آگمنٹیشن کے نام پر شہر کو نیپا سے حسن اسکوائر تک کھود کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ کراچی میں اگر کوئی بچہ گٹر میں گر جائے تو حکومت ذمے داری دوسروں پر ڈال دیتی ہے۔ گزشتہ سال 90 شہری اسٹریٹ کرمنلز کی گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ 64 ہزار سے زائد اسٹریٹ کرائمز رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن اہل کراچی کے لیے وبالِ جان بن چکی ہے اور شہر کا انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ حال ہے۔ جہانگیر روڈ، ایس ایم توفیق روڈ، 7 ہزار فٹ روڈ، ایم ایم عالم روڈ اور منگھو پیر روڈتباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ 60دن کے وعدے پر 60دن گزرنے کے بعد مزید 60دن بھی گزر گئے مگر قابض میئر کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی، نائب صدر وانچارج کے الیکٹرک کمپلینٹ سیل عمران شاہد ودیگر بھی موجود تھے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی سانحہ گل پلازہ کراچی کے کے لیے

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری