وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی وفات پر بچوں کی ملازمت کے کوٹہ سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

عدالت نے سندھ حکومت کی اپیل پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے،جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس عامر فاروق نے کہا سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا گیا۔

علاوہ ازیں آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت آج پھر دوبارہ ہوگی۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس سنا،متعددکمپنیوں کے وکیل نے کہا فنانس ایکٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل وفاق کی توثیق ضروری ہوتی ہے اور سپر ٹیکس کا سیکشن فور سی خلافِ ضابطہ ہے،ختم کیا جائے۔

مزید پڑھیں

جوڈیشل کمیشن کی سندھ ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی توثیق، آئینی بنچز کی تشکیل نو اور توسیع کی سفارش

دریں اثنا آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں گھرسے ملحقہ سرکاری اراضی کو استعمال کرنے سے متعلق کیس نمٹا دیا۔عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سی ڈی اے کی اپیل خارج کردی۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا یہ دو گھروں کے درمیان تنازع ہے اور فریقین آپسی حل پر غور کریں۔مزید برآںآئینی عدالت نے پی بی21میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق صالح بھوتانی کی درخواست پرسماعت بغیرکارروائی28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدالت نے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن