پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما اور پشاور کے بلور خاندان کی رکن ثمر بلور کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پر حملے اس لیے نہیں ہوتے کیوں کہ وہ خود ان دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے این پی کو خیر باد کہنے والی بلور خاندان کی واحد خاتون سیاستدان ثمر ہارون بلور کون ہیں؟

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ثمر بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ریڈیو پاکستان پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کے ہاتھ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں ان کا آنا کسی خواہش یا منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ حالات نے انہیں اس ڈگر پر ڈال دیا۔

ثمر بلور نے کہا کہ ان کے شوہر ہارون بلور کی شہادت کے بعد ان کے خاندان اور کارکنان شدید دباؤ کا شکار تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں تھا بلکہ بلور خاندان کی دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد کو ختم کرنے کی کوشش تھی لہٰذا میرا سیاست میں آنے کا فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر کیا۔

ثمر بلور کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد وہ پشاور کی پہلی منتخب خاتون رکن صوبائی اسمبلی بنیں جسے وہ اپنی ذات کے بجائے کارکنان اور ووٹرز کی کامیابی سمجھتی ہیں۔

مزید پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی کو بڑا دھچکا، ثمر ہارون بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت، وزیراعظم سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ یہ اعتماد میرے لیے ایک امانت تھا جسے عوام نے میرے سپرد کیا۔

علاقائی سیاست سے قومی پلیٹ فارم تک

ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں علاقائی جماعتوں کی سیاسی گنجائش اب وہ نہیں رہی جو ماضی میں تھی۔

ثمر بلور نے کہا کہ وقت اور حالات بدل چکے ہیں اب پختون نیشنلزم ایک محدود دائرے میں سمٹ کر رہ گئی ہے اور مختلف جماعتوں کی باہمی کشمکش نے اجتماعی آواز کو کمزور کردیا ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی یا بلور خاندان کی سیاست ختم ہو چکی ہے تاہم وہ یہ مانتی ہیں کہ انتخابی سیاست میں اب انہیں وہ اسپیس حاصل نہیں رہی جو پہلے کبھی تھی۔

تحریک انصاف کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایسی سیاست کا حصہ نہیں بن سکتیں جہاں مخالفین، خواتین اور کمزور طبقات کا تمسخر اڑایا جائے۔

مزید پڑھیں: ثمر بلور کی ن لیگ میں شمولیت پر ایمل ولی خان کا ردعمل: ’کوئی حیرت کی بات نہیں‘

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 13 برسوں میں پشاور شدید پسماندگی کا شکار ہوا ہے اور بنیادی شہری سہولیات متاثر ہوئی ہیں۔

دہشتگردی، قربانیاں اور سوالات

ثمر بلور نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر میں 2 مرتبہ شہدا کی لاشیں آئیں اور تحقیقات میں ان حملوں کے تانے بانے افغانستان سے جا کر ملے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی حقیقی نمائندگی آج بھی موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والی ثمر ہارون بلور کو رکن قومی اسمبلی بنانے کا فیصلہ

وہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ آخر کیوں کچھ سیاسی جماعتیں مسلسل دہشتگردوں کے نشانے پر رہیں جبکہ بعض جماعتیں نسبتاً محفوظ رہیں۔

ن لیگ کا انتخاب کیوں؟

مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے بارے میں ثمر بلور کہتی ہیں کہ انہوں نے کارکردگی کو بنیاد بنایا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وہ جماعت چنی جو باتوں کے بجائے عملی کام پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ جہاں بھی اقتدار میں رہی وہاں ترقی کے آثار نظر آئے اور پشاور کے گھروں میں پنجاب کی مثالیں دی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور معیشت بدترین حالت میں ہیں۔

ثمر بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں بنیادی سہولیات نہیں، جامعات مالی بحران کا شکار ہیں اور بی آر ٹی نے ٹریفک کے مسائل مزید پیچیدہ کر دیے ہیں۔

’یہ جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ہے‘

ثمر بلور نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ محض سیاسی نعرہ نہیں ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: 13 سالہ پی ٹی آئی حکومت ناکام، کرپشن کی انتہا ہوچکی، میاں افتخار حسین

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک متاثرین کو شناخت اور عزت نہیں دی جاتی یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جدوجہد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ہونی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی چہرہ ثمر بلور عوامی نیشنل پارٹی ن لیگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ثمر بلور عوامی نیشنل پارٹی ن لیگ ثمر بلور نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ بلور خاندان کی ہارون بلور سیاست میں مسلم لیگ کے لیے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا