چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
چکوال کے گاؤں تترال سے تعلق رکھنے والی تجربہ کار اور باصلاحیت لینڈ اسکیپ ویژول آرٹسٹ سائرہ امجد نے گزشتہ 15 برسوں میں اپنے منفرد اسلوب کے ذریعے آرٹ کی دنیا میں ایک روشن پہچان قائم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیںـ: بلوچ آرٹسٹ نے اپنے فن سے دنیا کو حیران کردیا
کینوس پر ایکرلیک رنگوں کے ساتھ اسٹیل وول کا استعمال کرتے ہوئے فطرت کے حسن کو اس مہارت سے اجاگر کرتی ہیں کہ منظر جیتا جاگتا محسوس ہونے لگتا ہے۔
ان کے تخلیق کردہ بافت دار، کھلے اور پھولوں سے سجے باغات رنگوں کی ایسی ہم آہنگی پیش کرتے ہیں جو دل کو سکون اور آنکھوں کو طمانیت عطا کرتی ہے جیسے ناظر لمحہ بھر کے لیے فطرت کی آغوش میں جا بیٹھا ہو۔
سائرہ امجد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے فن کی مقبولیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک ان کے 3 ہزار سے زائد فن پارے ملک بھر میں فروخت ہو چکے ہیں۔
ان کی پینٹنگز نہ صرف نجی کلیکشنز کی زینت بنی ہیں بلکہ مختلف معروف ٹی وی ڈراموں میں بھی نمایاں طور پر دکھائی گئیں جس سے ان کے فن کو ایک وسیع حلقۂ ناظرین تک رسائی ملی کراچی اور اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ان کی 3 کامیاب سولو نمائشیں ان کے فنی سفر کے اہم سنگِ میل ہیں جہاں آرٹ سے وابستہ شخصیات، ناقدین اور شائقین نے ان کے کام کو بے حد سراہا اور ان کے جدید اسلوب کو فطرت سے گہرے تعلق کا حسین امتزاج قرار دیا۔
مزید پڑھیے: متعدد ایوارڈز جیتنے والی ڈی آئی خان کی آرٹسٹ حنا پروین نے معذوری کو کیسے ہرایا؟
یہ بے مثال آرٹسٹ محض اپنے فن ہی کی بدولت نمایاں نہیں بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک مضبوط اور روشن مثال بھی ہیں۔ ان کی کامیابی نے بالخصوص خواتین کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ اپنے شوق اور صلاحیتوں کو پیشہ ورانہ سطح تک لے جا سکتی ہیں۔
ان کا فن کا یہ سفر ان کے خاندان تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ ان کی چھوٹی بیٹی فاطمہ بھی والدہ سے متاثر ہو کر پینٹنگز بناتی ہے جبکہ بیٹا ساحل میٹل وائر سے مجسمے اور اسکلپچر تخلیق کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: پیشہ فن کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، لاہور کی خوبصورتی اجاگر کرنے والا آرٹسٹ پولیس اہلکار سب کے لیے مثال
یوں یہ گھرانہ فنون لطیفہ کا ایک خوبصورت مرکز بن چکا ہے جہاں تخلیق، محنت اور حوصلے کی روشنی ہر دل کو منور کرتی ہے۔ تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹسٹ سائرہ امجد اسٹیل وول اور ایکرلیک چکوال سائرہ امجد کا بے مثل آرٹ فطرت کی عکاسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چکوال سائرہ امجد کا بے مثل ا رٹ فطرت کی عکاسی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔