امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی، جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے ایران کی جانب بڑی فوجی طاقت روانہ کر دی ہے، جس میں جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
ائیر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا کی ایک بڑی فورس ایران کی سمت بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد جہاز ایران کے قریب جا رہے ہیں اور احتیاطی تدبیر کے طور پر فورس تعینات کی جا رہی ہے، آئندہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پھانسیاں دی گئیں تو کارروائی کی جائے گی، اور ان کی دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیوں کا فیصلہ واپس لے لیا۔
تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس فوجی نقل و حرکت کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا لازمی طور پر فوجی کارروائی کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی دستے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے خواہاں نہیں، تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا سخت جواب دے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم