فیفا صدر جیانی ان فینٹینو نے جلد پاکستان آنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیفا کے صدر جیانی ان فینٹینو نے پاکستان کے جلد دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیرِاعظم شہباز شریف سے پاکستان آنے کا وعدہ کرچکے ہیں اور اس وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ان کا تعلق مضبوط ہو رہا ہے اور وہ خود آکر فٹبال کی صورتحال دیکھنا چاہتے ہیں۔
جیانی ان فینٹینو نے پاکستان فٹبال فیڈریشن میں حالیہ تبدیلیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن کو نیا صدر ملا ہے جو نہایت اچھا کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درست سمت میں قیادت ملنے سے فٹبال کے شعبے میں بہتری آتی ہے اور پاکستان میں بھی اس کے مثبت آثار نظر آ رہے ہیں۔
فیفا صدر نے پاکستان کو فٹبال کے حوالے سے ایک عظیم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیفا کی خواہش ہے کہ پاکستان مستقبل میں ایشیا کی مضبوط ٹیموں میں شامل ہو اور اس مقصد کے لیے فیفا کی جانب سے عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
جیانی ان فینٹینو کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں فٹبال کا نظام مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے تو یہ ملک بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے، اور فیفا اس سفر میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیانی ان فینٹینو کہنا تھا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔