امن بورڈ کا حصہ بننے کا نامناسب فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260123-03-2
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش یا دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ’’غزہ امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرار داد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کے قیام سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں خاطر خواہ اضافے اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے، پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے ان اہداف کے حصول اور فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ سید عاصم منیر عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس پہنچ چکے ہیں جہاں اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ’’امن بورڈ‘‘ کی دستخطی تقریب متوقع ہے۔ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ اب تک 25 ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے، ان ممالک میں پاکستان، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، قطر، مصر، ترکیہ، ہنگری، مراکش، انڈونیشیا، کوسوو، پیرا گوئے، ویتنام، ازبکستان، قازقستان، آرمینیا، آذربائیجان اور بیلا روس شامل ہیں۔ جب کہ یورپ کے اہم ممالک فرانس، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے وغیرہ نے واضح الفاظ میں اس نئے عالمی فورم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ ’’امن بورڈ‘‘ کا مقصد اگرچہ عالمی سطح پر شدید بحث اور اختلافات کا باعث بن چکا ہے۔ یہ بورڈ اگرچہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2803 کے فریم ورک کی روشنی میں تشکیل دیا جا رہا ہے تاہم عالمی مبصرین کا موقف ہے کہ اس کا مقصد دنیا میں پہلے سے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیے گئے ’’اقوام متحدہ‘‘ نامی ادارے کو نظر انداز کرنا ہے اقوام متحدہ اگرچہ دنیا میں امن قائم رکھنے، انسانی حقوق کے تحفظ اور اقوام عالم میں انصاف و برابری کے اصولوں کو سر بلند رکھنے میں ناکام رہا ہے تاہم اقوام متحدہ کو ایک کٹھ پتلی کے بجائے عالمی سطح پر موثر اور فعال بنانے کے بجائے ایک نئے ادارے کے قیام کا کوئی جواز موجود نہیں۔ ’’امن بورڈ‘‘ کی تشکیل کا مقصد تو غزہ میں امن، تعمیر نو اور بعد از جنگ نظم و نسق کے لیے ایک نیا فریم ورک فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے تاہم اس بورڈ کے گیارہ صفحات پر مشتمل چارٹر میں ’’غزہ‘‘ کا براہ راست ذکر تک موجود نہیں، پھر اس کی ہیئت ترکیبی بھی عجب ہے کہ جس ظالم و جابر، غیر قانونی طور پر مسلط شدہ اور غاصب ریاست سے غزہ کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جانا مطلوب ہے اور جو غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی ذمے دار ہے اسے تو ’’امن‘‘ اور ’’تعمیر نو‘‘ کے لیے بنائے گئے اس نام نہاد بورڈ کا اہم رکن قرار دیا جا رہا ہے۔ گویا بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھایا جا رہا ہے۔ جب کہ غزہ یا فلسطین کے مسلمانوں کی کسی بھی قسم کی نمائندگی اس بورڈ میں موجود نہیں بلکہ ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مصداق، بورڈ کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ غزہ کے مسلمانوں کی منتخب شدہ اور مزاحمت کی جرأت مندانہ علامت ’’حماس‘‘ کو غیر مسلح کرے گا یعنی امن اور تعمیر نو کا یہ عجیب فارمولہ ہے جس کے ذریعے مظلوم کو اپنے دفاع اور تحفظ کے حق سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ باقی دنیا کی طرح وطن عزیز میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ اور اس کے تحت قائم کیا جانے والا یہ ’’امن بورڈ‘‘ اہم سیاسی و دینی جماعتوں کی طرف سے ہدف تنقید رہا ہے اور حکومت کو متنبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اس کا حصہ نہ بنے مگر حکومت پاکستان خصوصاً وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منصوبے کے اعلان کے فوری بعد قومی سطح پر مجلس شوریٰ میں یا سیاسی و دینی حلقوں سے مشاورت تک کیے بغیر اس کی حمایت کا اعلان کر دیا تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کی جا سکے، اب بھی اپنے اسی طرز عمل کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے اختلافی موقف کو سنجیدگی سے سنے بغیر ’’امن بورڈ‘‘ کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے حالانکہ قومی مفاد کا تقاضا تھا کہ اس قدر اہم اقدام سے قبل وسیع تر مشاورت کا اہتمام کیا جاتا مگر حکومت نے مجلس شوریٰ کے ایوان بالا سینیٹ اور ایوان زیریں قومی اسمبلی تک کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’’امن بورڈ‘‘ کی دستخطی تقریب کا حصہ بننے کے لیے ڈیووس تشریف لے گئے ہیں۔ مجلس شوریٰ کے ایوان بالا میں نامزد قائد حزب اختلاف سینیٹر ناصر عباس نے حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اسے مذموم قرار دیا ہے اور کہا کہ پاکستان نے غزہ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں جو شمولیت اختیار کی ہے یہ اخلاقی طور پر غلط اور ناقابل دفاع ہے اس سے نہ صرف پاکستان کی اخلاقی ساکھ مجروح ہو گی بلکہ اس پر پچھتانا بھی پڑے گا۔ اس پیش رفت پر سخت رد عمل دیتے ہوئے سینیٹر ناصر عباس، جو مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین بھی ہیں، نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام ابتدا ہی سے مسائل کا شکار تھا اور پاکستان کو اس فیصلے پر پچھتانا پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے منصوبے سے وابستگی، جو فلسطینیوں کے اختیار خودارادیت اور اقوام متحدہ کے نظام کو کمزور کرتا ہے، پاکستان کی اخلاقی حیثیت اور اس کی تزویراتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، پاکستان کی شمولیت کو مزید تشویشناک بنانے والی بات یہ ہے کہ جس اقدام کو ابتدا میں غزہ میں نسل کشی کے بعد تعمیر نو کے لیے ایک محدود طریقہ کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب اسے کھلے عام وسعت دی جا رہی ہے۔ اس کے مرکزی سرپرست کے بیانات اور مسودۂ منشور کے مندرجات، اقوام متحدہ کو خاطر میں لائے بغیر، فلسطین سے کہیں آگے تک کے عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بھی امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ کے ’’امن بورڈ‘‘ کو نو آبادیاتی نظام کی نئی شکل قرار دیا ہے جس میں عراق کو تباہ کرنے والے ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ بورڈ فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کا نیا نظام ہے، تعمیر نو کے نام پر غزہ پر امریکی قبضہ قابل قبول نہیں اور اس کی حمایت میں پاکستانی دفتر خارجہ کا موقف بھی حقائق کے برعکس ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور امیر جماعت اسلامی کا حکومت کے اقدام پر رد عمل نہایت معقول اور قابل توجہ ہے۔ آخر میں حکمرانوں سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ کیا انہوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے کہ کیا پاکستانی سپاہی غزہ میں اسرائیلی سپاہیوں کے شانہ بشانہ خدمات انجام دیں گے؟ اور ایسی صورت میں پاکستانی سپاہیوں کے جذبات کیا ہوں گے؟ اور کیا فرائض کی ادائیگی کے دوران فریقین کے مابین رد عمل اور تصادم کے امکانات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسی کوئی صورت حال فطری طور پر پیدا ہو جاتی ہے تو پاکستانی حکومت، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں پاکستان بورڈ ا ف پیس اقوام متحدہ کا حصہ بننے کا اعلان کر پاکستان کی جا رہا ہے کیا جا کے لیے دیا ہے کر دیا
پڑھیں:
نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NAPRA) نے 1 روپیہ 73 پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نیپرا نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی سمیت ملک بھر کےلیے بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
مزید پڑھیں:دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
نیپرا اعلامیے کے مطابق سی پی پی اے کی اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔