Jasarat News:
2026-07-24@05:04:17 GMT

امن بورڈ کا حصہ بننے کا نامناسب فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260123-03-2
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش یا دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ’’غزہ امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرار داد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کے قیام سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں خاطر خواہ اضافے اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے، پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے ان اہداف کے حصول اور فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ سید عاصم منیر عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس پہنچ چکے ہیں جہاں اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ’’امن بورڈ‘‘ کی دستخطی تقریب متوقع ہے۔ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ اب تک 25 ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے، ان ممالک میں پاکستان، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، قطر، مصر، ترکیہ، ہنگری، مراکش، انڈونیشیا، کوسوو، پیرا گوئے، ویتنام، ازبکستان، قازقستان، آرمینیا، آذربائیجان اور بیلا روس شامل ہیں۔ جب کہ یورپ کے اہم ممالک فرانس، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے وغیرہ نے واضح الفاظ میں اس نئے عالمی فورم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ ’’امن بورڈ‘‘ کا مقصد اگرچہ عالمی سطح پر شدید بحث اور اختلافات کا باعث بن چکا ہے۔ یہ بورڈ اگرچہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2803 کے فریم ورک کی روشنی میں تشکیل دیا جا رہا ہے تاہم عالمی مبصرین کا موقف ہے کہ اس کا مقصد دنیا میں پہلے سے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیے گئے ’’اقوام متحدہ‘‘ نامی ادارے کو نظر انداز کرنا ہے اقوام متحدہ اگرچہ دنیا میں امن قائم رکھنے، انسانی حقوق کے تحفظ اور اقوام عالم میں انصاف و برابری کے اصولوں کو سر بلند رکھنے میں ناکام رہا ہے تاہم اقوام متحدہ کو ایک کٹھ پتلی کے بجائے عالمی سطح پر موثر اور فعال بنانے کے بجائے ایک نئے ادارے کے قیام کا کوئی جواز موجود نہیں۔ ’’امن بورڈ‘‘ کی تشکیل کا مقصد تو غزہ میں امن، تعمیر نو اور بعد از جنگ نظم و نسق کے لیے ایک نیا فریم ورک فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے تاہم اس بورڈ کے گیارہ صفحات پر مشتمل چارٹر میں ’’غزہ‘‘ کا براہ راست ذکر تک موجود نہیں، پھر اس کی ہیئت ترکیبی بھی عجب ہے کہ جس ظالم و جابر، غیر قانونی طور پر مسلط شدہ اور غاصب ریاست سے غزہ کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جانا مطلوب ہے اور جو غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی ذمے دار ہے اسے تو ’’امن‘‘ اور ’’تعمیر نو‘‘ کے لیے بنائے گئے اس نام نہاد بورڈ کا اہم رکن قرار دیا جا رہا ہے۔ گویا بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھایا جا رہا ہے۔ جب کہ غزہ یا فلسطین کے مسلمانوں کی کسی بھی قسم کی نمائندگی اس بورڈ میں موجود نہیں بلکہ ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مصداق، بورڈ کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ غزہ کے مسلمانوں کی منتخب شدہ اور مزاحمت کی جرأت مندانہ علامت ’’حماس‘‘ کو غیر مسلح کرے گا یعنی امن اور تعمیر نو کا یہ عجیب فارمولہ ہے جس کے ذریعے مظلوم کو اپنے دفاع اور تحفظ کے حق سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ باقی دنیا کی طرح وطن عزیز میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ اور اس کے تحت قائم کیا جانے والا یہ ’’امن بورڈ‘‘ اہم سیاسی و دینی جماعتوں کی طرف سے ہدف تنقید رہا ہے اور حکومت کو متنبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اس کا حصہ نہ بنے مگر حکومت پاکستان خصوصاً وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منصوبے کے اعلان کے فوری بعد قومی سطح پر مجلس شوریٰ میں یا سیاسی و دینی حلقوں سے مشاورت تک کیے بغیر اس کی حمایت کا اعلان کر دیا تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کی جا سکے، اب بھی اپنے اسی طرز عمل کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے اختلافی موقف کو سنجیدگی سے سنے بغیر ’’امن بورڈ‘‘ کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے حالانکہ قومی مفاد کا تقاضا تھا کہ اس قدر اہم اقدام سے قبل وسیع تر مشاورت کا اہتمام کیا جاتا مگر حکومت نے مجلس شوریٰ کے ایوان بالا سینیٹ اور ایوان زیریں قومی اسمبلی تک کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’’امن بورڈ‘‘ کی دستخطی تقریب کا حصہ بننے کے لیے ڈیووس تشریف لے گئے ہیں۔ مجلس شوریٰ کے ایوان بالا میں نامزد قائد حزب اختلاف سینیٹر ناصر عباس نے حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اسے مذموم قرار دیا ہے اور کہا کہ پاکستان نے غزہ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں جو شمولیت اختیار کی ہے یہ اخلاقی طور پر غلط اور ناقابل دفاع ہے اس سے نہ صرف پاکستان کی اخلاقی ساکھ مجروح ہو گی بلکہ اس پر پچھتانا بھی پڑے گا۔ اس پیش رفت پر سخت رد عمل دیتے ہوئے سینیٹر ناصر عباس، جو مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین بھی ہیں، نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام ابتدا ہی سے مسائل کا شکار تھا اور پاکستان کو اس فیصلے پر پچھتانا پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے منصوبے سے وابستگی، جو فلسطینیوں کے اختیار خودارادیت اور اقوام متحدہ کے نظام کو کمزور کرتا ہے، پاکستان کی اخلاقی حیثیت اور اس کی تزویراتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، پاکستان کی شمولیت کو مزید تشویشناک بنانے والی بات یہ ہے کہ جس اقدام کو ابتدا میں غزہ میں نسل کشی کے بعد تعمیر نو کے لیے ایک محدود طریقہ کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب اسے کھلے عام وسعت دی جا رہی ہے۔ اس کے مرکزی سرپرست کے بیانات اور مسودۂ منشور کے مندرجات، اقوام متحدہ کو خاطر میں لائے بغیر، فلسطین سے کہیں آگے تک کے عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بھی امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ کے ’’امن بورڈ‘‘ کو نو آبادیاتی نظام کی نئی شکل قرار دیا ہے جس میں عراق کو تباہ کرنے والے ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ بورڈ فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کا نیا نظام ہے، تعمیر نو کے نام پر غزہ پر امریکی قبضہ قابل قبول نہیں اور اس کی حمایت میں پاکستانی دفتر خارجہ کا موقف بھی حقائق کے برعکس ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور امیر جماعت اسلامی کا حکومت کے اقدام پر رد عمل نہایت معقول اور قابل توجہ ہے۔ آخر میں حکمرانوں سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ کیا انہوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے کہ کیا پاکستانی سپاہی غزہ میں اسرائیلی سپاہیوں کے شانہ بشانہ خدمات انجام دیں گے؟ اور ایسی صورت میں پاکستانی سپاہیوں کے جذبات کیا ہوں گے؟ اور کیا فرائض کی ادائیگی کے دوران فریقین کے مابین رد عمل اور تصادم کے امکانات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسی کوئی صورت حال فطری طور پر پیدا ہو جاتی ہے تو پاکستانی حکومت، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں پاکستان بورڈ ا ف پیس اقوام متحدہ کا حصہ بننے کا اعلان کر پاکستان کی جا رہا ہے کیا جا کے لیے دیا ہے کر دیا

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ