شدید برفباری سے بالائی علاقوں میں ہنگامی صورتحال، سڑکیں بند، سیاح محصور، 2 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، متعدد رابطہ سڑکیں بند ہونے سے مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سیاح بھی مختلف مقامات پر محصور ہو گئے ہیں جبکہ مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بلوچستان کے شمالی علاقوں میں برفانی طوفان کے باعث کوئٹہ زیارت شاہراہ پر درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں اور این 50 شاہراہ پر شدید پھسلن کے سبب 9 حادثات پیش آئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے، جبکہ شیلاباغ کے قریب حادثے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، گلیات، شانگلہ، چترال، لوئر دیر اور وادی تیراہ میں بھی شدید برفباری سے ٹریفک اور بجلی کا نظام متاثر ہوا اور 100 سے زائد گاڑیاں پھنس گئیں جن میں سوار افراد کو ریسکیو ٹیموں نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ گلگت بلتستان کے ضلع استور میں 2 سے 3 فٹ تک برف پڑنے سے زمینی رابطے منقطع ہو گئے جبکہ ہنزہ، نگر، چلاس اور بابوسر ٹاپ میں بھی سردی کی شدت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آزاد کشمیر اور مری میں بھی برفباری کے باعث سڑکیں جزوی طور پر بند کر دی گئیں۔ دوسری جانب ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور برف میں پھنسے افراد و گاڑیوں کو نکالنے کے ساتھ متاثرین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔