Islam Times:
2026-06-03@00:28:52 GMT

امریکہ عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر الگ ہو گیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

امریکہ عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر الگ ہو گیا

 امریکی وزارتِ صحت اور خارجہ کے مطابق، اب امریکہ کا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلق انتہائی محدود رہے گا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بطور "مبصر" بھی شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کا کوئی منصوبہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارہ صحت (WHO) سے الگ ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت اس کے ایک سال بعد سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے اپنی نئی مدتِ صدارت کے پہلے دن ایک ایگزیکیٹو آرڈر کے ذریعے ڈبلیو ایچ او سے نکلنے کی ہدایت دی تھی۔ امریکی قانون کے تحت کسی بھی بین الاقوامی ادارے سے نکلنے کے لیے ایک سال کا پیشگی نوٹس دینا اور تمام بقایا واجبات ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ صدر ٹرمپ نے 22 جنوری 2025ء کو حکم نامہ جاری کیا تھا اس لیے ایک سال مکمل ہونے پر آج ڈبلیو ایچ سے امریکا کی علیحدگی ہو گئی۔ امریکا نے ایک سال قبل اطلاع دینے کا قانونی تقاضہ تو پورا کردیا لیکن اب تک واجبات کی ادائیگی نہیں کی جس کے باعث اس عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے 2024ء اور 2025ء کے واجبات ابھی تک ادا نہیں کیے جن کی مجموعی رقم تقریباً 26 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزارتِ صحت اور خارجہ کے مطابق، اب امریکہ کا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلق انتہائی محدود رہے گا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بطور "مبصر" بھی شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کا کوئی منصوبہ ہے۔ امریکہ اب عالمی ادارہ صحت کے بجائے براہِ راست دیگر ممالک کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے اور بیماریوں کی نگرانی پر کام کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار