صوبائی وزیر خوراک کا بڑا اقدام، محکمہ خوراک میں بدانتظامی پر متعدد افسران معطل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے محکمہ خوراک میں بدانتظامی کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے۔
اس کارروائی کے تحت اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اور دیگر افسران کے خلاف فوری اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ محکمہ میں نظم و ضبط بحال کیا جا سکے۔
معطل کیے گئے افسران میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر لاڑکانہ عبدالوسیم جمالی، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر سکھر قریب اللہ سومرو، اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر عمرکوٹ وشن داس شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شکارپور اور مدیجی کے فوڈ سپروائزرز کو بھی فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر جامشورو زاہد حسین عمرانی اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر گھوٹکی حاکم علی مہر کا تبادلہ بھی کر دیا گیا ہے۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ محکمہ خوراک میں نظم و ضبط کی بحالی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور غیر ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فوڈ کنٹرولر
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔