صوبائی وزیر خوراک کا بڑا اقدام، محکمہ خوراک میں بدانتظامی پر متعدد افسران معطل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے محکمہ خوراک میں بدانتظامی کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے۔
اس کارروائی کے تحت اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اور دیگر افسران کے خلاف فوری اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ محکمہ میں نظم و ضبط بحال کیا جا سکے۔
معطل کیے گئے افسران میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر لاڑکانہ عبدالوسیم جمالی، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر سکھر قریب اللہ سومرو، اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر عمرکوٹ وشن داس شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شکارپور اور مدیجی کے فوڈ سپروائزرز کو بھی فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر جامشورو زاہد حسین عمرانی اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر گھوٹکی حاکم علی مہر کا تبادلہ بھی کر دیا گیا ہے۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ محکمہ خوراک میں نظم و ضبط کی بحالی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور غیر ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فوڈ کنٹرولر
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔