گل پلازہ سانحہ، ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں: سینئر فائر آفیسر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
گل پلازہ سانحہ، ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں: سینئر فائر آفیسر WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2026 سب نیوز
کراچی: (آئی پی ایس) سینئر فائر آفیسر ظفر خان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سانحے کے بعد ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں۔
ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گل پلازہ کے تہ خانے میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی جسے بجھا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمارت کی چھت سے ڈیزل ٹینک نہیں اتارا گیا تھا، ڈیزل ٹینک اتارنے کے دوران اس میں آگ لگی جسے بھجادیا گیا۔
ظفر خان نے کہا کہ عمارت کا اسٹرکچر کمزور ہوگیا ہے،اب صرف سرچنگ کا عمل رہ گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنرساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سرچ آپریشن آخری مراحل میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن آج مکمل ہوجائےگا، ایس بی سی اے کی نگرانی میں کام ہورہا ہے، کوشش ہے کہ جلد از جلد اسے مکمل کرلیں۔
دوسری جانب پولس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ 67 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے، اب تک 16 لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے، ملنے والی 6 لاشیں قابل شناخت تھیں۔
ڈاکٹر کے مطابق 8 لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ممکن ہوئی، ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ سے ہوئی تھی، جب کہ ایک لاش کی شناخت گلے میں پہنے لاکٹ سے کی گئی۔
سانحے کی ابتدائی رپورٹ تیار:
اس کے علاوہ تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے تیار کرلی۔
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی، 77 افراد تاحال لاپتہ
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی، دکان میں موجود بچوں کے کھیلنے کے دوران آگ لگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بجلی کی تاروں میں پھیلی،آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔
واضح رہے کہ کراچی میں المناک گل پلازہ سانحہ گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات 10 بجے کے بعد پیش آیا جس میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات، ملک بدری کا عمل تیز ایران میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات، ملک بدری کا عمل تیز بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ٹرمپ نے کینیڈا سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی رخسانہ افضال نے تھائی انٹرنیشنل ٹریول فئیر کا افتتاح کیا متنازع ٹویٹس کیس؛ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا گیا بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج، سڑکیں بند، سیاح محصور، 2 افراد جاں بحقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔