آغا علی دوسری شادی کب کر رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکار آغا علی نے دوسری شادی سے متعلق منصوبوں سے پردہ اُٹھا دیا۔
حال ہی میں معروف اداکار نجی ٹی وی چینل کے شو میں بطور مہمان شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی دوسری شادی کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی۔
شادی کے تصور سے وقتی طور پر دوری اختیار کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آغا علی نے کہا اللّٰہ سب کو خوش رکھے۔ اگر شادی کامیاب ہو جائے تو یہ سب سے خوبصورت چیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو محبت کرنے والے ساتھیوں سے بہتر کچھ نہیں۔ تاہم یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ کچھ عرصہ خوشی سے ساتھ رہتے ہیں اور پھر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو انہیں آگے بڑھ جانا چاہیے اور دوبارہ شادی بھی کی جا سکتی ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، فی الحال میں شادی کے بارے میں نہیں سوچ رہا، لیکن جب ایسا کچھ ہوگا تو یقیناً سب کے ساتھ شیئر کروں گا۔
اداکار کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ میں دوبارہ شادی کروں گا۔ میں شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آخرکار یہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ایک درست اور حتمی حقیقت ہے، زندگی کسی شریکِ حیات کے ساتھ ہی مکمل ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ آغا علی کی پہلی شادی اداکارہ حنا الطاف کے ساتھ 2020ء میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران شادی کی تھی پھر 2022ء میں اس جوڑے کے درمیان علیحدگی کی خبریں گردش کرنے لگیں جنہیں پہلے تو آغا علی نے مسترد کر دیا تھا۔
بعد ازاں اس جوڑے نے اپنی علیحدگی کی خبروں پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی تھی تاہم 2024ء میں آغا علی نے ایک پوڈ کاسٹ کے دوران طلاق کی تصدیق کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔