برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ہالی ووڈ اداکارہ ایلزبتھ ہرلی نے میڈیا سے متعلق نجی معلومات تک غیر قانونی رسائی کے حوالے سے بھیانک انکشاف کردیا۔

ایلزبتھ ہرلی نے برطانیہ کی ایک عدالت میں جاری ایک ہائی پروفائل کیس کی سماعت کے دوران اپنی نجی زندگی میں ہونے والی ’بہیمانہ مداخلت‘ پر تفصیلی بیان دیا۔

یہ مقدمہ برطانوی میڈیا گروپ ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے خلاف دائر کیا گیا ہے، جس پر ایلزبتھ ہرلی اور دیگر مشہور شخصیات نے پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔

60 سالہ ایلزبتھ ہرلی، شہزادہ ہیری اور معروف گلوکار ایلٹن جان سمیت ان سات مدعیان میں شامل ہیں جنہوں نے اخبار کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔

اہلزبتھ ہرلی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بارے میں شائع ہونے والی 15 سے زائد خبریں ایسے مواد پر مبنی تھیں جو غیرقانونی طریقوں سے حاصل کیا گیا۔

اداکارہ نے عدالت میں انکشاف کیا کہ ان کے موبائل فونز ہیک کیے گئے اور ان کے گھر میں خفیہ مائیکروفون نصب کرکے ان کی نجی گفتگو تک سنی گئی۔

انہوں نے عدالت میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک خبر میں ان کی حمل کے دوران کی طبی تفصیلات شائع کی گئیں، جو ان کے بیٹے ڈیمین کی پیدائش سے متعلق تھیں۔

اداکارہ نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ یہ معلومات ان کے دوست ایلٹن جان کے شوہر ڈیوڈ فرنش نے میڈیا کو فراہم کیں۔

سماعت کے دوران ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے وکیل انتھونی وائٹ کی جرح کے وقت ایلزبتھ ہرلی جذباتی ہو گئیں اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے۔

سماعت کے موقع پر شہزادہ ہیری بھی عدالت میں موجود تھے جو ایلزبتھ ہرلی کے بیٹے کے پاس بیٹھ کر اسے تسلی دیتے دکھائی دیے۔

دوسری جانب، متعلقہ اشاعتی ادارے نے تمام الزامات کو بے بنیاد اور بہتان قرار دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایلزبتھ ہرلی عدالت میں

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف