آذربائیجان کی کمپنی کا پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
آذربائیجان کی ایک کمپنی نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کردیا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ڈیووس میں بزنس راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد ہوا، اجلاس میں عالمی سطح کی معروف کمپنیوں کے سی ای اوز اور سینئر حکام نے شرکت کی جہاں پاکستان کی اصلاحاتی سمت، سرمایہ کاری کے مواقعوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق آذربائیجان کی کمپنی نے پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خیر مقدم کیا اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس کے علاوہ محمد اورنگزیب اور بل گیٹس کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس میں پاکستان میں صحت اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔مزیدبراں وزیر خزانہ نے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔