روس، یوکرین اور امریکا کے حکام کے درمیان پہلی بار براہ راست سہ فریقی مذاکرات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ روس، یوکرین اور امریکا کے حکام کے درمیان پہلی بار سہ فریقی مذاکرات جمعہ اور ہفتہ کو ہوں گے، جب کہ امریکا روس کی جانب سے یوکرین پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بتایا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کی شرائط کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ جنگ کے بعد معاشی بحالی سے متعلق معاہدہ بھی تقریباً تیار ہے، جو کیف کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے
زیلنسکی کے مطابق یہ مذاکرات متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں ہوں گے اور انہیں امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان پہلا باضابطہ سہ فریقی اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم روس کی جانب سے ان مجوزہ مذاکرات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی سے ملاقات کو ‘اچھی’ قرار دیا، مگر جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو ایک جاری عمل کہا۔ اس سے قبل امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان طویل مذاکرات میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور اب صرف ایک مسئلہ باقی رہ گیا ہے، جس کے حل کے امکانات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا
اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بعد ازاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات چیت کے لیے ماسکو روانہ ہوئے، جس کے بعد امریکی وفد ابو ظہبی جائے گا جہاں فوجی سطح کے ورکنگ گروپس کے تحت مزید مذاکرات ہوں گے۔
زیلنسکی کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ اور ہفتہ تک جاری رہیں گے اور اسی دوران پہلی بار تینوں ممالک کے حکام ایک ہی میز پر بیٹھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ زیلینسکی یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا زیلینسکی یوکرین کی جانب سے یوکرین کے کے درمیان کے لیے کے بعد
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔