امریکی و چینی صدور کی ملاقات، عالمی تعلقات میں بہتری یا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اپریل 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے بیجنگ میں ملاقات کے امکانات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ ملاقات امریکا اور چین کے تعلقات میں بہتری کے ساتھ تائیوان اور یوکرین کے تنازعات کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔ دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی یہ ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرے کی گھنٹی ہے۔
غیر ملکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے 2025 میں ٹرمپ کو بیجنگ دورے کی دعوت دی جبکہ دونوں رہنماؤں کی جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں بھی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کو امریکی صدر ٹرمپ نے “انتہائی کامیاب” قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے ٹیرف اور تجارتی تاخیر نے بھارت امریکا تعلقات کو متاثر کیا اوربھارت اب بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے نومبر 2025 میں “G-2” کی اصطلاح استعمال کی اور امریکا اور چین کو دو عظیم طاقتیں قرار دیا۔ ٹرمپ اور پاکستان کے تعلقات کے باعث بھارت اور امریکا تعلقات متاثر ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنی پالیسی میں فوری اصلاحات کرنا ہوں گی ورنہ وہ عالمی سطح پر تنہا اور کمزور ہو جائے گا۔ جی-2 کی اصطلاح اور امریکی و چینی صدور کی ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرہ کی گھنٹی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔