سندھ، لاہور، پشاور ہائیکورٹس کے متعدد ایڈیشنل ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر مملکت آصف علی زرداری نے جوڈیشل کمشن کی سفارشات کی روشنی میں سندھ، لاہور اور پشاور ہائی کورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے سندھ ہائی کورٹ کےلئے جن دس ایڈیشنل ججز کی توثیق کی منظوری دی ہے، ان میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس مسز تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن، جسٹس عبد الحمید بھرگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر’آدا‘ جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔ صدر مملکت نے سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ کی مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کےلئے صدرِ مملکت نے جن ایڈیشنل ججز کی توثیق کی منظوری دی ہے، ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس مسز عبیر گل خان شامل ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدتِ ملازمت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے لئے چھ ایڈیشنل ججز کی توثیق کی منظوری دی ہے۔ ان میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبد الفیاض، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ شامل ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کی مدتِ ملازمت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں جسٹس مسز فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔ یہ منظوری وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایڈیشنل ججز کی توثیق توسیع کی منظوری کی منظوری دی ہے ہائی کورٹ کے ملازمت میں پشاور ہائی کے ایڈیشنل اور جسٹس شامل ہیں کی مدت
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔