سندھ ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے 10 ججز نے اپنےعہدوں کاحلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے 10 ججز نے اپنےعہدوں کا حلف اٹھالیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ظفراحمد راجپوت نےججز سے حلف لیا۔ حلف اٹھانے والوں میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس عبدالحمید بھرگڑی اور جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثاراحمد بھانبھرو، جسٹس علی حیدرادا، جسٹس محمدعلی قاسم علی ہادی اور جسٹس محمدجعفررضا شامل ہیں۔
تقریب حلف برداری سندھ ہائیکورٹ کےججز میں ایڈیشنل اٹھارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہوئے۔ تقریب میں حلف اٹھانے والے ججز کے اہلخانہ, پراسیکیوٹر جنرل اور وکلا کی بڑی تعداد شامل تھی۔
سندھ ہائیکورٹ کےجسٹس خالدحسین شاہانی اورجسٹس فیض الحسن شاہ کو مستقل نہیں کیا گیا.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ کے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔