وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ڈیووس میں سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح سے ملاقات کی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں موجودہ اور مجوزہ منصوبوں پر پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بل گیٹس سے ملاقات، صحت اور اصلاحات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

سعودی وزیرِ سرمایہ کاری نے پاکستان کی اہمیت اور سرمایہ کاری کی وسیع صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور ابھرتے ہوئے سرمایہ کاری کے مواقع کے باعث خطے میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔

ملاقات میں دونوں وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی تکنیکی ٹیمیں مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانے اور آئندہ ملاقاتوں سے مثبت اور نتیجہ خیز نتائج حاصل کرنے کے لیے قریبی رابطے میں کام کر رہی ہیں۔ اس موقع پر دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی عرب وزیر خزانہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے