متحدہ عرب امارات میں بچوں کے سوشل میڈیا قوانین نافذ؛ والدین پر کروڑوں روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی لا نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور تحفظ کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئے قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا والدین یا سرپرست کی واضح، تحریری اور قابلِ تصدیق اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ والدین کو دی گئی اجازت کسی بھی وقت اور بغیر کسی وجہ کے واپس لینے کا آسان طریقہ فراہم کریں۔
قانون کے تحت بچوں کے ڈیٹا کو کمرشل مقاصد یا ٹارگٹڈ اشتہارات کے لیے استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آن لائن کمرشل گیمز، جوا اور بیٹنگ پلیٹ فارمز تک رسائی بھی بند کر دی گئی ہے۔
نئے قانون کے مطابق والدین اور سرپرستوں پر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور ان کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کی قانونی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ اس طرح بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت اب صرف اخلاقی یا تربیتی معاملہ نہیں رہی بلکہ اسے باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔
قانون میں نقصان دہ آن لائن مواد، حد سے زیادہ ڈیجیٹل مصروفیت اور بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال پر سخت پابندیاں شامل ہیں، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں پر بھی واضح ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اگر والدین یا سرپرست بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نگرانی، کنٹرول یا حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہے تو ان پر ایک ملین درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کی آن لائن بچوں کے گئی ہے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔