اقتصادی تعاون تنظیم کا ای سی او وزارتی اجلاس؛ موسمیاتی خطرات کیخلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
این ڈی ایم اے پاکستان کے زیر اہتمام اقتصادی تعاون تنظیم کا دو روزہ دسواں ای سی او وزارتی اجلاس 21 تا 22 جنوری اسلام آباد میں منعقد ہوا، ای سی او ارکان ممالک نے آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون اور مشترکہ اقدامات کو مزید موثر اور مربوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی۔ یہ پاکستان کی جانب سے پہلی بار آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے تدارک کے حوالے سے ای سی او اجلاس کی میزبانی ہے۔ ای سی او اجلاس میں رکن ممالک کے وزراء اور، سینئر حکام سمیت متعلقہ عالمی و علاقائی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اختتامی تقریب میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور ان کے باعث آنے والی آفات آج کی حقیقت ہیں۔
وزارتی اجلاس میں 21 جنوری کو ہوئے اعلی سطح ورکنگ گروپ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ بعدازاں اجلاس کے دوسرے روز ای سی او وژن 2025ء اور سینڈائی فریم ورک سے ہم آہنگ اسلام آباد کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
آذربائیجان کے نائب وزیر ایمرجنسی حالات نے آفات اور موسمیاتی خطرات کی بڑھتی ہوئی شدت سے نمٹنے کے لیے علاقائی ہم آہنگی پر زور دیا۔
کرغزستان کے نائب وزیر نے مشترکہ تیاری، صلاحیت سازی اور پیشگی آگاہی اور تیاری کے موثر اور مربوط نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
تاجکستان کے نائب چیئرمین نے موسمیاتی تبدیلیوں کو آفات اور خطرات میں شدت کی بڑی وجہ قرار دیا ۔
ترکیہ کے سربراہ آفاد نے مشترکہ تربیت، فرضی مشقوں اور زلزلہ کے حوالے سے معلومات کے فوری تبادلہ کے لیے اقدامات تجویز کیے۔
ازبکستان کے نائب وزیر نے ادارہ جاتی تعاون اور عملی اقدامات پر زور دیا۔
پاکستان نے ای سی او خطے میں آفات اور ممکنہ خطرات کے تدارک کے لیے جدید اور جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ای سی او ارکان ممالک نے آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون اور مشترکہ اقدامات کو مزید موثر اور مربوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
این ڈی ایم اے کے ممبر ڈی آر آر محمد ادریس محسود نے این ای او سی کے ذریعے پیشگی آگاہی اور تیاری کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ ترکمانستان اور ایران نے ای سی اولائحہ عمل کے تحت علاقائی تعاون کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
پاکستان کی جانب سے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کو ای سی او ممالک کے لیے آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کی پیشکش کی گئی۔ ای سی او رکن ممالک نے این ڈی ایم اے کے این ای او سی ماڈل کو خطے میں مشترکہ طور پر فعال بنانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں مشترکہ تربیتی پروگرامز اور جامع بین الاقوامی فرضی مشقوں کے انعقاد کی منظوری دی گئی۔ ای سی او ممالک کے لیے تمام ممکنہ آفات اور علاقائی سطح پرخطرات کی تشخیص کی منظوری ہوئی۔
تلاش اور بچاؤ کے اقداما ت کے لیے صلاحیتی دائرہ کار، سامان کی ترسیل اور امدادی اقدامات میں مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ ترکیہ کی جانب سے زلزلہ سے متعلق مشترکہ معلوماتی سینٹر کے قیام کی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا۔
رکن ممالک کی جانب سے یو این ای ایس سی اے پی، اے پی ڈی آئی ایم اور یونیسف کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ای سی او رکن ممالک میں بچوں کے لیے آفات اور ممکنہ خطرات سے متعلق کارٹون ویڈیو منصوبے کا اجرا کیا گیا۔
اسلام آباد اعلامیے کے مطابق اجلاس میں خواتین، نوجوانوں لڑکیوں، معذور افراد اور دیگر کمزور طبقات کو بااختیار بنانے پر زور دیا گیا۔ جامع حکومتی اور سماجی اشتراک سے آفات اور موسمیاتی خطرات کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ای سی او رکن ممالک نے تمام اقدامات کو ای سی او لائحہ عمل 2035ء کے مطابق جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ای سی او سیکرٹریٹ کے ذریعے آفات سے نمٹنے اور خطرات کے تدارک کے حوالے سے تمام منصوبوں کی پیش رفت کے جائزہ کے مؤثر لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا، اسلام آباد اعلامیہ ای سی او ممالک کے عوام کے تحفظ کا مشترکہ عزم ہے، پاکستان این ای او سی کے ذریعے ای سی او ممالک کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے عزم کا اعادہ کیا سے نمٹنے کے لیے سی او ممالک ڈی ایم اے پر اتفاق کیا کے تدارک کے اسلام آباد کی جانب سے پر زور دیا رکن ممالک اجلاس میں ممالک کے ممالک نے کے نائب کیا گیا
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔