چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی گلوبل مسلم بزنس فورم کے اعزازی سرپرست مقرر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی گلوبل مسلم بزنس فورم کے اعزازی سرپرست مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2026 سب نیوز
یہ اعزاز انہیں اس تاریخی کامیابی کے چند ہی ماہ بعد حاصل ہوا ہے جب انہوں نے بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان میں ایک ریکارڈ ساز بین الاقوامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی، جس میں دنیا کے 45 ممالک کی پارلیمانوں کے اسپیکرز اور اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کو باضابطہ طور پر گلوبل مسلم بزنس فورم کا اعزازی سرپرست بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ فورم ایک مؤثر بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جو مسلم دنیا میں ذمہ دارانہ اقتصادی قیادت، باہمی تعاون اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ نامزدگی چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی بطور سینئر سیاستدان، رکنِ پارلیمنٹ اور آئینی حکمرانی و علاقائی تعاون کے مضبوط حامی کے طور پر بڑھتی ہوئی عالمی شناخت کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اس وقت سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں وہ قانون سازی کے تسلسل کی نگرانی، سیاسی ہم آہنگی کے فروغ اور ایک پیچیدہ قومی و علاقائی ماحول میں پارلیمانی اقدار کے تحفظ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان کا دہائیوں پر محیط عوامی کیریئر طرزِ حکمرانی کے چیلنجز، معاشی ترقی اور جمہوری اداروں کے استحکام سے جڑا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی ایک نمایاں پارلیمانی رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ سال 2025 میں انہیں بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کا بانی چیئرمین مقرر کیا گیا، جو دنیا بھر کے پارلیمانی قائدین کے مابین مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ایک نیا عالمی فورم ہے۔ آئی ایس سی کے قیام کے محض چار ماہ کے بعد چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستان میں پہلی آئی ایس سی کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں 45 ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز اور 117 اعلیٰ سطحی مندوبین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے پاکستان کو پارلیمانی سفارت کاری کے ایک مؤثر مرکز کے طور پر اجاگر کیا اور چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی ادارہ جاتی وژن کو عملی نتائج میں ڈھالنے کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔ گلوبل مسلم بزنس فورم کا قیام سیاسی قیادت، کاروباری رہنماؤں، دانشوروں اور ان اداروں کو یکجا کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے جو ترقی، علاقائی تعاون اور مسلم معیشتوں میں طویل المدتی استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔ دسمبر 2025 میں کوالالمپور میں منعقدہ GMBF سربراہی اجلاس میں چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی شرکت اور خدمات کو اہم اور بامعنی شراکت کے طور پر سراہا گیا جس سے حکمرانی، سرمایہ کاری کے اعتماد اور اقتصادی تعاون سے متعلق مباحث کو نئی جہت ملی۔ اپنی تقرری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے کہا انہیں گلوبل مسلم بزنس فورم کا اعزازی سرپرست مقرر کیے جانے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ مسلم دنیا میں اقتصادی تعاون اور ذمہ دارانہ قیادت کے فروغ کے لیے GMBF کا مشن نہایت بروقت اور قابلِ تحسین ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے میں او آئی سی ممالک کے درمیان مضبوط روابط، باہمی تجارت کے فروغ اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کا خواہاں ہوں۔ GMBF جیسے اقدامات جدت کو فروغ دے سکتے ہیں، نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور غربت کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فورم کے اقدامات کی بھرپور حمایت کریں گے اور مستقبل میں اس کے پلیٹ فارم پر فعال کردار ادا کرتے رہیں گے تاکہ ایک خوشحال، مستحکم اور باہم مربوط مسلم دنیا کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی بطور اعزازی سرپرست ان کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ کی علامت ہے، جو عالمی پارلیمانی اور اقتصادی مکالمے میں پاکستان کے کردار کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ یہ تقرری اس حقیقت کی بھی عکاس ہے کہ مسلم دنیا میں مؤثر اور پائیدار اقتصادی تعاون کے لیے ایسی قیادت انتہائی ضروری ہے جو اپنے تجربے، ادارہ جاتی فہم اور ترقی کے پائیدار وژن سے لیس ہو۔روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجی او آر گیٹ حملہ کیس: حماد اظہر، زبیر نیازی سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار جی او آر گیٹ حملہ کیس: حماد اظہر، زبیر نیازی سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار انڈ ویجیلنٹ لینڈ پاکستان کے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس کا مطالعاتی دورہ شدید برفباری کے باوجود مری، نتھیا گلی اور دیگر پہاڑی علاقوں میں آئیسکو کی ٹیمیں متحرک، بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے... پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، گل پلازہ آتشزدگی سمیت متعدد قراردادیں منظور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی امریکہ میں پارلیمانی روابط کے فروغ کے لیے مؤثر نمائندگی۔ فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو کا دورہ پاکستان کا اعلان
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی گلوبل مسلم بزنس فورم بین الاقوامی پاکستان کے مسلم دنیا کے طور پر کے فروغ کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔