پارلیمنٹ اجلاس، سانحہ گل پلازہ پر قرارداد سمیت متعدد اہم بلز منظور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)پارلیمنٹ نے قومی کمیشن انسانی حقوق (ترمیمی ) بل 2025، دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 اور گھریلو تشدد (روک تھام و تحفظ) بل 2025 کی منظوری دے دی ۔
پارلیمنٹ ک مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں قومی کمیشن انسانی حقوق (ترمیمی ) بل 2025، دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 اور گھریلو تشدد (روک تھام و تحفظ) بل 2025 کی منظوری دے دی گئی۔ گھریلو تشدد کے حوالے سے بل میں پہلی بار مردوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف بھی قانونی تحفظ فراہم کر دیا ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بورڈ آف پیس میں شامل ہونا پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
اجلاس میں گل پلازہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعہ پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرار داد ڈاکٹر فاروق ستار نے پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ حکومت جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرے اور کاروبار کی بحالی کے لیے اقدامات کرے۔مجلس شوری کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔