پاکستان کا سیٹلائٹ امیجری اور اے آئی کے ذریعے بحری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان بندرگاہوں اور بحری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ سیٹلائٹ امیجری، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ماڈلنگ بندرگاہوں کے نئے مقامات کی نشاندہی، بحری ٹریفک کی نگرانی، کارگو کلیئرنس میں تاخیر کم کرنے، تیل کے رساؤ کی بروقت نشاندہی اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر بحری امور نے کراچی میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کردیا
اس اقدام کا مقصد تجارتی سرگرمیوں میں بہتری، بحری تحفظ کو مضبوط بنانا اور ماحولیاتی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے، تاکہ پاکستان خود کو خطے میں ایک اہم ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر منوا سکے۔
یہ منصوبہ حکومتِ پاکستان کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع بندرگاہوں کو جدید بنایا جا رہا ہے، درآمد و برآمد کے عمل کو تیز اور شفاف بنایا جائے گا اور وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو سمندری راستوں سے جوڑنے کے لیے پاکستان کو ایک مرکزی گیٹ وے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر بحری امور نے کراچی میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کردیا
حکام کے مطابق اس منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے سمندر کی سطح میں اضافے، ساحلی کٹاؤ، شدید موسمی حالات، ساحلی ماحولیاتی نظام، پانی کے معیار اور تلچھٹ کی حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا سکے گی، جس سے شواہد پر مبنی پالیسی سازی ممکن ہو گی اور ساحلی آبادیوں و بنیادی ڈھانچے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔
وزارتِ بحری امور اور سپارکو کے درمیان تعاون کو باقاعدہ اور مؤثر بنانے کے لیے ایک منظم فریم ورک تشکیل دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خلائی اور اے آئی پر مبنی بندرگاہی نگرانی کے اس اقدام سے کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت بہتر ہو گی، تاخیر میں کمی آئے گی، بحری سلامتی مضبوط ہو گی اور علاقائی تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے پاکستان کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی بحری امور سیٹلائٹ امیجری میری ٹائم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے آئی سیٹلائٹ امیجری میری ٹائم کے لیے
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر