لگتا ہے آگ لگنے کے واقعے میں 18ویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں: شازیہ مری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ کراچی میں افسوسناک واقعے پر سب کو تکلیف ہوئی، دکھ کا جتنا بھی اظہار کیا جائے کم ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہی ہے لیکن اس واقعے پر جو سیاست کی جارہی ہے وہ افسوسناک ہے۔
شازیہ مری نے کہا کہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کی ضرورت ہے، لگتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں اٹھارویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں۔
لاہور میں کئی ایسی عمارتیں ہیں جن میں نا تو فائر سیفٹی کا انتظام ہے اور نا ہی انخلا کا مناسب راستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر بات کرتے کرتے آپ اٹھارویں ترمیم پر بات کرنے لگے ہیں، ایک وفاقی وزیر نے سندھ کے شہر کو وفاق کے قبضے میں دینے کی بات کی، ہم جانتے ہیں آپ نے قبضے کی سیاست کی اور نام لے لے کر خود کو ایکسپوز کیا۔
شازیہ مری نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تمام لوگوں نے وقت کیساتھ ایک دوسرے پر چارج شیٹ دی، ایسی بات کرکے کئی لوگوں کے احساسات کو مجروح کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے وزیر نے بیان دیا ہو یا کسی اور نے دیا ہو وہ قابل مذمت ہے، کراچی کو سب پتا ہے اس لیے کوئی آپ کے پیچھے نہیں کھڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شازیہ مری نے کہا کہ
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔