گورنر خیبرپختونخوا اور میئر کراچی کا گل پلازہ واقعے پر سیاست سے اجتناب اور متاثرین کی بحالی پر زور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ گل پلازہ سانحے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
گورنرہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بعض سیاسی عناصر اس المناک واقعے میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم کسی بھی واقعے پر صوبائی حکومت کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ گل پلازہ سانحے کی مکمل انکوائری جاری ہے اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی تاکہ انصاف یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس المناک واقعے کو سیاست کے لیے استعمال نہ کریں۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے اور متاثرین کی مکمل بحالی تک سکون سے نہ بیٹھنے کا عزم ظاہر کیا۔ میئر نے متاثرہ خاندان کے کاروبار کی بحالی کا وعدہ بھی کیا اور کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار اب بھی ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ ملبے تلے موجود افراد تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ