پاک فوج کی سُست میں زلزلہ متاثرین کے لیے فوری امدادی کارروائیاں، خوراک اور طبی سامان روانہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
چپورسن کے علاقے میں آنے والے حالیہ زلزلے کے بعد پاک فوج نے سُست میں فوری اور مربوط امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت متاثرہ آبادی کے لیے خوراک، طبی امداد اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: برزل پاس میں برف کا تودہ گرنے سے پاک فوج کے آفیسر اور سپاہی سمیت 3 افراد شہید
امدادی سرگرمیوں کا آغاز افیّت آباد مین بازار، سُست سے کیا گیا، جہاں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان مزدا گاڑیوں میں لاد کر دور دراز اور متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ تیز رفتار اقدام اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ امداد بروقت اور بلا تعطل مستحق خاندانوں تک پہنچ سکے۔
پاک فوج کے جوان مقامی سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہے ہیں تاکہ لاجسٹکس کو مؤثر بنایا جا سکے اور امدادی سامان کی منصفانہ تقسیم یقینی ہو۔ یہ امدادی مہم ہنگامی حالات میں پاک فوج کے انسانی ہمدردی پر مبنی کردار اور سول۔ملٹری تعاون کی عملی مثال ہے۔
مزید پڑھیں: لائن آف کنٹرول پاہل میں پاک فوج کا ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ
حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جو قدرتی آفات کے دوران عوامی فلاح و بہبود کے لیے پاک فوج کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک فوج اظہار یکجہتی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک فوج اظہار یکجہتی پاک فوج کے کے لیے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔