بورڈ آف پیس میں شمولیت اسلامی ممالک کا مشترکہ فیصلہ, حماس کیخلاف استعمال نہیں ہوں گے،عسکری ذرائع WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )سیکیورٹی ذرائع نے امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 8 بڑے ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ میں شرکت کا فیصلہ کیا، پاک فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ عسکری ذرائع نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شرکت کا فیصلہ 8 بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت اور بہت سوچ سمجھ کر کیا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے صرف امریکا ہی روک سکتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غزہ امن بورڈ کے تحت پاکستان کی فوج حماس کوغیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔عسکری ذرائع نے کہا کہ جہاں چین ہو وہاں ہمیں فکر نہیں ہوتی اور جہاں ہم ہوں وہاں چین کو فکر نہیں ہوتی، ہماری دوستی ہے، برطانیہ، یورپ سب امریکا کے اتحادی ہیں، انہوں نے اپنے فیصلے خودکرنے ہیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ معرکہ حق میں تمام فیصلے وزیراعظم نے کیے بس فوج نے اپنی ان پٹ دی، سات مئی کو بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز کا میسج آیا ہم نے جو جواب دیا اس سے انہیں آگ لگ گئی تھی، پاکستانی فوج کا اپنا ایک فیصلہ ہے کہ ہم نے کیسے جواب دینا ہے اور ہم نے دیا۔عسکری ذرائع نے کہا ہک ملک سے دہشت گردی تب ختم ہوگی جب نیت ٹھیک ہو گی، نیشنل ایکشن پلان کا پہلا نکتہ فوجی آپریشن ہے جو کر رہے ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ آپریشنز ہورہے ہیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس بہتر نہیں چل رہی، وہاں 3300 ملازمین ہیں جو پورا نہیں اتر پارہے۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ طالبان کو بتایا ہے کہ ہم معافی نہیں دیں گے، ہمیں انہیں ٹھیک کرنا ہے۔اس کے علاوہ عسکری ذرائع نے کہا کہ آزادکشمیر میں کلیئر کر لیں، کشمیر بنے گا پاکستان، پاکستانی فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے والے کے ذہنی مریض ہونے کے موقف پر قائم ہیں جبکہ ہم کسی جماعت کے حامی یا مخالف نہیں مگر جو پاکستان کے خلاف سوچے گا وہ نہیں چل سکتا۔عسکری ذرائع نے کہا کہ پاکستان سے اوپر کسی کی ذات یا سیاست نہیں ہو سکتی اور یہ بات طے ہوچکی ہے۔ایک سوال کے جواب میں عسکری ذرائع نے کہا کہ یواے اے اور انڈیا کے معاہدے سے کوئی مسئلہ نہیں، یو اے ای ہمارا بہت اچھا دوست ہے، ہمیں اس پر کوئی شک نہیں،

ہمارے بنگلہ دیش کے ساتھ پہلے کیسے تعلقات تھے اور اب کیسے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے، ہمارا دوست جہاں بیٹھا ہوگا وہاں کوئی غلط بات کرے گا تو ہمارا دوست بتائے گا ٹھیک کیا ہے۔عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخو ا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اس وقت دو ہزار نوسو اڑسٹھ کیس زیر التوا ہیں، تین سال سے زیادہ عرصہ سے ٹوٹل چھ سو ستاتر اور صرف خیبرپختونخوا میں چھ سو اکیس کیسز التوا میں ہیں، کے پی کے پولیس بہت بہادر ہے مگر اسے فری ہینڈ ملے تو وہ کام کر سکتی ہے۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ کے پی کے میں آپریشن نہ کریں توکیا اسے نورولی محسود کے حوالے کر دیں؟ کے پی کے میں وزیراعلی اورکورکمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقتدار کے محض 3 ماہ بعد جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم نے اسمبلی تحلیل کردی اقتدار کے محض 3 ماہ بعد جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم نے اسمبلی تحلیل کردی بنگلادیش کے بائیکاٹ کی صورت میں کونسی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شامل ہوگی؟ نام سامنے آگیا وزیر اعلی مریم نواز کا پنجاب میں تین روزہ بسنت فیسٹول کا اعلان صومالی وزیر داخلہ کی آمد، دہشتگردی و انتہاپسندی کیخلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق سندھ طاس معاہدے پر اقوامِ متحدہ کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہوئے 35 دن مکمل، بھارت نے جواب نہ دیا وفاقی حکومت نے گریڈ20کے آفیسر طلعت محمود کی بطور ممبر اسٹیٹ اضافی چارج توسیع کر دی،نوٹیفیکشن سب نیوز پر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عسکری ذرائع نے کہا کہ استعمال نہیں

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے