احسن اقبال کا غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کا دفاع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وفاقی وزیر احسن اقبال نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس حکومت کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا دفاع کیا ہے۔
اجلاس سے خطاب میں احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں کوئی بزدلی اور غفلت کا طعنہ نہ دے، مسلم لیگ (ن) ملکی سلامتی پر کسی سے درس لینے کی محتاج نہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہل فلسطین پر جاری اسرائیلی مظالم رکوانے کےلیے کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان امن بورڈ کا حصہ نہیں بنتا تو اپوزیشن کہتی کہ پاکستان تنہا رہ گیا ہے، پاکستان کو آج اہم کردار ملا ہے تو اس پر خوش ہونا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آج غزہ میں سیزفائر 8 اسلامی ممالک کی وجہ سے ہے، اسلامی ممالک کو غزہ امن بورڈ کے ذریعے موقع ملا ہے کہ اہل فلسطین کے حقوق کا دفاع کرسکیں۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل پر پاکستان کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: احسن اقبال کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔