ایرانی مظاہروں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
نیویارک (ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے خلاف کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوی کے سربراہ کے مطابق ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہرکرتے ہیں کہ سکیورٹی فورسزنے بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کیں اور مظاہرین کے ساتھ سخت کارروائیاں کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی افراد کا بھی پیچھا کیا گیا اورانہیں اسپتالوں سے حراست میں لیا گیا، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین پرطاقت کے بے تحاشا استعمال اور گرفتاریوں کا نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انسانی حقوق کے سربراہ نے دنیا کی کمیونٹی سے اپیل کی کہ ایران میں انسانی جانوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں اورمظاہرین اورعام شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔