آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آسٹریلیا کے خلاف 3 میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کریں گے جب کہ قومی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار بلے باز اور سابق کپتان بابر اعظم بابر اعظم اور اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
پی سی بی کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف اسکواڈ میں فخر زمان، صائم ایوب، شاداب خان اور نسیم شاہ بھی شامل ہیں جبکہ فہیم اشرف، وسیم جونیئر، سلمان مرزا، ابرار احمد، محمد نواز اور عثمان طارق بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
اس کے علاوہ نوجوان کھلاڑی خواجہ نافع، صاحبزادہ فرحان اور عثمان خان کو بھی موقع دیا گیا ہے۔
آسٹریلوی ٹیم 28 جنوری کو پاکستان پہنچے گی اور دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی 20 سیریز کا آغاز 29 جنوری سے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہو گا۔ پہلا میچ 29 جنوری، دوسرا 31 جنوری اور تیسرا میچ یکم فروری کو شیڈول ہے۔
یہ سیریز بابر اعظم اور شاہین آفریدی کے لیے قومی ٹی 20 کرکٹ میں اہم واپسی ثابت ہوگی اور پاکستان کی جانب سے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ بھی ٹیم کی مضبوطی اور مستقبل کی تیاری کی غمازی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔