کراچی سانحات، حادثات اور جرائم کا شہر بن چکا ہے، یکم فروری کو ”جینے دو کراچی مارچ “ ہوگا: منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی سانحات، حادثات اور جرائم کا شہر بن چکا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ اور قابض میئر نااہل ثابت ہو چکے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔
ادارہ نورِ حق میں امرائے اضلاع کے اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو شہر کے تباہ حال انفرااسٹرکچر، عوامی مسائل اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں، پیپلز پارٹی کے 17 سالہ بدترین دورِ حکمرانی نے کراچی کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اہلِ کراچی کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اتوار یکم فروری کو سہ پہر 3 بجے شاہراہ فیصل پر ایک عظیم الشان اور تاریخی”جینے دو کراچی مارچ“ منعقد کیا جائے گا، جس میں شہر بھر سے مرد و خواتین، نوجوان، طلبہ و اساتذہ، علمائے کرام، وکلاء، تاجر اور مزدور بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے سانحہ گل پلازہ کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی حاضر سروس جج سے عدالتی تحقیقات کروائی جائیں، مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے، ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ حکومتی نااہلی، بدانتظامی اور سندھ حکومت و قابض میئر کی جانب سے مسائل کے حل میں عدم دلچسپی کے باعث اہلِ کراچی مسلسل اذیت کا شکار ہیں اور مسائل کے دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں، تباہ حال انفرااسٹرکچر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی شدید قلت، پانی کی کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل شہریوں کے لیے عذابِ جان بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف خونی ڈمپرز اور ٹینکرز، کھلے مین ہولز کے باعث بچے اور عام شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، تو دوسری طرف دن دہاڑے مسلح ڈاکو شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ صوبائی وزراء اور قابض میئر کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے صرف بیانات اور اعلانات تک محدود ہیں۔
اجلاس میں ”جینے دو کراچی مارچ کو“ کی تیاریوں اور انتظامات کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ طے پایا کہ مارچ میں شہریوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے عام شہریوں، تاجروں، علماء کرام، وکلاء اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد سے مؤثر رابطہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ممبر سازی اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کیا جائے گا، شہر بھر میں کیمپس لگائے جائیں گے، ہزاروں بینرز آویزاں اور ہینڈ بلز تقسیم کیے جائیں گے۔ اجلاس میں یوسی سطح پر عوامی کمیٹیوں کی تشکیل اور ممبر سازی مہم کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کراچی کے عوامی مسائل کے حل کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔