data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی سانحات، حادثات اور جرائم کا شہر بن چکا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ اور قابض میئر نااہل ثابت ہو چکے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔

ادارہ نورِ حق میں امرائے اضلاع کے اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو شہر کے تباہ حال انفرااسٹرکچر، عوامی مسائل اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں، پیپلز پارٹی کے 17 سالہ بدترین دورِ حکمرانی نے کراچی کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی  نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اہلِ کراچی کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اتوار یکم فروری کو سہ پہر 3 بجے شاہراہ فیصل پر ایک عظیم الشان اور تاریخی”جینے دو کراچی مارچ“ منعقد کیا جائے گا، جس میں شہر بھر سے مرد و خواتین، نوجوان، طلبہ و اساتذہ، علمائے کرام، وکلاء، تاجر اور مزدور بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے سانحہ گل پلازہ کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی حاضر سروس جج سے عدالتی تحقیقات کروائی جائیں، مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے، ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ حکومتی نااہلی، بدانتظامی اور سندھ حکومت و قابض میئر کی جانب سے مسائل کے حل میں عدم دلچسپی کے باعث اہلِ کراچی مسلسل اذیت کا شکار ہیں اور مسائل کے دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں، تباہ حال انفرااسٹرکچر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی شدید قلت، پانی کی کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل شہریوں کے لیے عذابِ جان بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف خونی ڈمپرز اور ٹینکرز، کھلے مین ہولز کے باعث بچے اور عام شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، تو دوسری طرف دن دہاڑے مسلح ڈاکو شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ صوبائی وزراء اور قابض میئر کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے صرف بیانات اور اعلانات تک محدود ہیں۔

اجلاس میں ”جینے دو کراچی مارچ کو“ کی تیاریوں اور انتظامات کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ طے پایا کہ مارچ میں شہریوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے عام شہریوں، تاجروں، علماء کرام، وکلاء اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد سے مؤثر رابطہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ممبر سازی اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کیا جائے گا، شہر بھر میں کیمپس لگائے جائیں گے، ہزاروں بینرز آویزاں اور ہینڈ بلز تقسیم کیے جائیں گے۔ اجلاس میں یوسی سطح پر عوامی کمیٹیوں کی تشکیل اور ممبر سازی مہم کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کراچی کے عوامی مسائل کے حل کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیا جائے نے کہا

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان