data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں غزہ پیس بورڈ اور اسرائیلی جارحیت کے معاملے پر اپوزیشن کے شدید احتجاج کے دوران صدرِ مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 اور گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 منظور کر لیے گئے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز سے ہی اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج، نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت پر سخت اعتراضات کیے گئے۔

مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک انتہائی حساس موڑ سے گزر رہی ہے اور غزہ کے عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا ہے جو کام نیتن یاہو نہ کر سکا وہ اب پیس بورڈ کے نام پر کیا جا رہا ہے، اس پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی نہیں اور ہم اتفاق رائے کے بغیر اس کا حصہ بن گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کی جائے اور نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا جائے تاکہ پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ ہو۔

اجلاس میں صدرِ مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 اور گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 پر اعتراضات پیش کیے گئے۔ صدر نے دانش اسکولز اتھارٹی کے قیام سے قبل صوبوں سے مشاورت پر زور دیا جبکہ گھریلو تشدد کے بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے مجوزہ سزاؤں پر نظرثانی کی سفارش کی۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم کو حکومت نے قبول کر لیا جبکہ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ بعد ازاں ایوان نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 منظور کر لیا۔

دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 پر جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے صدر مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سناتے ہوئے  کہا کہ وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے، اسپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کر دیا، جس پر اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی اور دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔

پی ٹی آئی کے اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، بیرسٹر گوہر اور علامہ راجا ناصر عباس نے نعرے لگائے جبکہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں احتجاج جاری رہا۔ احتجاج کے باوجود دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 منظور کر لیا گیا۔

بعد ازاں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 پیش کیا گیا۔ جے یو آئی نے صدر کے اعتراضات ایوان میں رکھے، اسپیکر نے ترامیم مسترد کر دیں۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ اس بل میں پہلی بار مردوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ انہیں بھی گھریلو تشدد سے تحفظ مل سکے۔ بعد ازاں ایوان نے گھریلو تشدد بل 2025 بھی منظور کر لیا۔

اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے فاروق ستار کی جانب سے سانحہ گل پلازہ پر حکومت و اپوزیشن کی مشترکہ قرارداد پیش کی گئی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت، متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور متاثرین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک قومی مسئلہ ہے، اسے سیاست یا لسانیت کا رنگ نہ دیا جائے، پیپلز پارٹی کراچی اور اس کے شہریوں کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے اور لاشوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 منظور کر لیا گھریلو تشدد کی جانب سے پیس بورڈ پیش کی کہا کہ

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں