Jang News:
2026-06-02@23:52:37 GMT

ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے، سینیٹر علی ظفر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے، سینیٹر علی ظفر

فائل فوٹﷺ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر ہی سپر ٹیکس لگا کر حکومت چلائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے قرض ہے، پارلیمنٹ کے پاس نہ معیشت، نہ ہی خارجہ امور کا کوئی معاملہ لے کر آیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ دنیا میں نیا نظام آرہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر منتخب حکومت نے قرض لے کر ہی گزارا کرنا ہے عام شہری کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آپ کو پارلیمنٹ کی ضرورت پڑے گی، قوم کی حمایت آپ کو تب ملے گی جب بانی پی ٹی آئی آئیں گے۔

اس معاملے پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیا اور کہا کہ اڈیالہ میں بیٹھا شخص حکومت میں آکر فیل ہوچکا ہے، اس نے کرسی کی خاطر آئی ایم ایف کا پروگرام سبوتاژ کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرسٹر علی ظفرکی پارٹی کی معاشی پالیسیاں ہم نے 2018 میں خوب دیکھیں، بتایا گیا کہ اسد عمر بڑے معاشی ایکسپرٹ ہیں، انہیں 12 ماہ سمجھ نہیں آیا کرنا کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے معاشی دہشت گردی کی، ان کی لگائی آگ ہم بجھارہے ہیں، آپ معاشی استحکام میں حصہ نہیں ڈال سکتے تو اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔

اجلاس کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی، ساتھ ہی اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ پر حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔

سینیٹ اجلا س میں کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلیے ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر پی ٹی ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع

سٹی 42:  کفایت شعاری اقدامات میں  نائب وزیر اعظم نے  مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی

کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔

تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ